Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

حکومت کپاس کی بحالی و فروغ اور ریسرچ اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے جا رہی ہے: جمشید اقبال چیمہ

حکومت ملک میں کپاس کی بحالی وفروغ اور کاٹن کے ریسرچ اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے جا رہی ہے ، جس سے نہ صرف ملک میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کپاس سے جڑے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے یہ بات وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقدہ ملک میں کپاس کی بحالی سے متعلق کاٹن کے تمام اسٹیک ہولدڑزکے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
معاون خصوصی برائے فوڈ سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ ہم اس سال کے آخر تک پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تشکیل نو کا پراسس مکمل کر لیں گے، اور ہم نے پی سی سی سی کی تنظیم نو کے لئے ایک ارب روپے کی رقم مختص کی ہے اور اس کے لئے ٹی اور آرز پہلے ہی تیار کئے جا چکے ہیں، اس کے علاوہ حکومت آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشنز کے ذمہ3 ارب سے زائد کاٹن سیس کی رقم کی ادائیگی کے لئے ایپٹما کے نمائندگان سے فوری میٹنگ کا اردہ رکھتی ہے امید ہے بہت جلد ریسرچ اداروں میں بہتری آئے گی اور کاٹن ریسرچ سسٹم کو مضبوط بنایا جائے گا۔
اس وقت کپاس کی موجودہ صورتحال گزشتہ برس کی نسبت کافی بہتر ہے اور ہم انشاء اللہ اس سال 9ملین سے زائد کپاس کی گانٹھوں کا حدف حاصل کر لیں گے۔
ملکی تاریخ میں گنا، مکئی اور گندم کی سب سے زیادہ پیداوار ہوئی، ملکی تاریخ میں گنے کی فصل دوسری بڑی پیداوار ہے، جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ زرعی معیشت میں 1100ارب روپے منتقل ہوئے جس سے کسان کی آمدن میں تاریخی اضافہ ہوا۔ حکومت نے 4.5 ارب روپے اس مقصد کے لئے رکھے ہیں کہ کپاس کے نرخ اگر 5000 روپے فی من سے نیچے آنے لگیں تو ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان مداخلت کر کے خود خریداری کر لے۔
اس کے علاوہ کسان کو فی ایکڑ 3900 روپے کاٹن پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں موجود میپکو کے نمائندہ کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر کسانوں کو بجلی کے زائد بل بھیجے گئے تو حکومت کے لئے یہ ناقابل بر داشت ہوگا اور ہم کسی صورت یہ کوتاہی برداشت نہیں کریں گے او میٹر ریڈرز کی بجائے ذ مہ داران آفیسران کی چھٹی کرائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button