زکریا یونیورسٹی ملازمین فورم : ملازمین حکومتی پالیسیوں اور مہنگائی کے خلاف پھٹ پڑے
حکومت یونیورسٹی ملازمین کے مسائل سمجھتے ہوئے اپنے اعلان اور وعدے کے مطابق تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کرے، عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پر سرکاری ملازمین کی پینشن اور دوسری مراعات ختم کرنےکامجوزہ بھیانک منصوبہ ختم کرے ۔
ان خیالات کااظہار بہاالدین زکریا یونیوسٹی کےملازمین نے کیا ایمپلائز ایسوسی ایشن کے سابق ممبرایگزیکٹو خرم عظیم نے کہاکہ حکومت اداروں میں کرپشن فری نظام نافذ کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ملازمین کو مطمئن کیاجائے، اور ان کو مراعات دی جائیں۔
سابق ایمپلائز ایسوسی ایشن کے رہنما مہر مرید عباس ہانسلہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافےکااعلان کیا اور وعدہ بھی، لیکن ابھی تک یونیورسٹی ملازمین کو بڑھی ہوئی تنخواہیں نہیں دی جاسکیں، جبکہ بیشتر محکموں کے ملازمین کو دے دی گئی ہیں۔
ملک وقار کھوکھر نے کہاکہ حکومت آئے روز پٹرول بم چلانے سے باز رہے کیونکہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے روزمرہ استعمال کی ہر چیزمہنگی ہوجاتی ہے۔
ملک غلام عباس نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی پینشن اور دوسری مراعات ختم کرنے کی تجاویز پر غور کیاجا رہا ہے، انہوں نے کہاکہ حکومت ایسی تجاویز ختم کرکے ملازمین کی فلاح کے منصوبے شروع کرے۔
مہر طارق ہراج نے کہاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کیاجائے اور یونیورسٹی ملازمین کو اعلان کے مطابق اضافی تنخواہیں جاری کی جائیں۔
سید مسعودالحسن شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارون میں کنٹریکٹ پالیسی ختم کی جائے اور تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیاجائے۔
انہوں نے کہاکہ یونیوورسٹی سمیت تمام اداروں کے کنٹریکٹ ملازمین کو ان کی تاریخ تقرری سے ہی مستقل کیاجائے۔
صہیب ایاز بخاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کیاجائے اور حکومت اپنے ہی اعلان کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کرے۔
بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے ملازمین نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کی ترقی کے لئے ملکر کام کرہے ہیں ۔
ارشد میتلا نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی ملازمین کےلئے بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی جائے تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں رہائش کے مسائل نہ ہوں۔ملازمین نے مطالبہ کہاہے کہ انہیں 25 فیصد اضافی تنخواہیں فوری اداکی جائیں ۔



















