Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں میڈیا ورکرز کو کپاس بارے بریفنگ دی گئی

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کےپر ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود میڈیا ورکرز کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب سیڈ کونسل کے اجلاس میں سی سی آر آئی ملتان کی منظور ہونے والی6 نئی اقسام نئی بی ٹی اقسام سی آئی ایم663,سی آئی ایم 678،سی آئی ایم785،سائیٹو533 اور سائیٹو535 جبکہ ایک نان بی ٹی قسم سائیٹو226 اور دیگر اقسام کی کارکردگی کا معائنہ کیا ۔
ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ ادارہ ہذا نے41ممالک سے کپاس کی6ہزار سے زائد اقسام تحقیقاتی پروگرام کے لئے اکٹھی کی ہوئی ہیںاور ادارہ ہذا کی میں لگی کپاس کی اقسام کا پوٹینشل60من سے زائد ہے جبکہ اوسط پیداور 40سے45من ہے۔
ڈاکٹر زاہد کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں جتنا سیڈ دستیاب ہوتا ہے ہم سیزن کے آخر میں سرکاری نرخ پر بلا خاص وعام تفریق پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر سیڈ فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ وفد کو ادارہ ہذا کے تجرباتی فارم پر مصنوعی بارشوں کی ٹیکنالوجی، لیف ٹیکنالوجی اور گلابی سنڈی روک تھام سے متعلق ادارہ ہذا میں تیار کی پنک بول وورم منیجر مشین کے بارے میں بھی آگاہی فرام کی۔
اس موقع پر قومی اخبارات و ریڈیو ٹی وی سے منسلک زراعت سے وابستہ سینئرز صحافیوں نے مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ آنے والے وقتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ناگزیر ہے اور سی سی آر آئی ملتان کی کپاس کی تحقیق وترقی میں کردار قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں سی سی آر آئی ملتان کپاس کے میدان میں اپنی گرانقدر خدمات جاری رکھے گی ۔
گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے حوالہ سے ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود نے وفد کو بتایا کہ اگر پلانٹ پاپولیشن پوری ہو تو کپاس کی آخری چنائی کے بعد اگر فی پودا میں اوسطاً 3ٹینڈے موجود ہوں تو کاشتکار مشینی بول پکر کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں تین من کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر زاہد کا یہ بھی کہنا تھاکہ تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کپاس کی چنائی کے بعد کپاس کے کھیتوں میں باقی بچ جانے والے ادھ کھلے یا مکمل ٹینڈوں میں گلابی سنڈی کے لاروے موجود ہوتے ہیں ، اگر ان لارووں کی بروقت روک تھام یا تدارک نہ کیا جائے تو اس سے کپاس کی آئیندہ کی فصل کو نقصان ہونے کا خدشہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے اور چند سال پہلے ہمیں گلابی سنڈی اور اس کے لارووں سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔
ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا کہ آنے والاوقت مشینی استعمال کے لیے کافی سود مند ہوگا اور اسی کے پیش نظر سی سی آر آئی ملتان مستقبل کے چیلنجز سے نپٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور ادارہ ہذا کے زرعی سائنسدان وقت کے جدید تقاضوں کو سامنے رکھ کر نئی سے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
میکینیکل بول پکر سے چنے گئے باقی ماندہ کچے ٹینڈوں کو دھوپ میں پھیلا دیا جاتا ہے جس سے ٹینڈوں میں موجود گلابی سنڈی اور اس کے لاروے مر جاتے ہیں۔
اس موقع پر ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان کے ہمراہ انفارمیشن آفیسر ساجد محمود ا وردارہ ہذا کے زرعی سائنسدان بھی موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button