سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سےجرمن یونیورسٹی ایبرزویلڈے برائے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے وفد کی ملاقات
سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل سے جرمن یونیورسٹی ایبرزویلڈے برائے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر مائیکل سپائز(Dr,Michael spies,Ebersalde university for sustainable Development,Germany)، ریسرچر مہوش زبیری نے ملاقات کی۔
اسسٹنٹ پروفیسرایم این ایس زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر آصف رضا بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ملاقات میں زراعت میں جدت اورفصلوں کی پیداوار میں اضافہ سمیت دیگرزرعی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور پیداواری اخراجات پر قابو پانے کیلئے آئی پی ایم کے طریقوں پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔کپاس سمیت دیگر فصلوں کو کاشتکاروں کیلئے منافع بخش بنانا مشن ہے جس کیلئے کام جاری ہے۔
امسال کپاس پر آئی پی ایم ماڈل پر عملدرآمد سے کپاس کی فصل بہتر رہی ہے اور کئی سالوں بعد یہ فصل منافع بخش ثابت ہورہی ہے۔
اس موقع پر جرمن پروفیسر ڈاکٹر مائیکل سپائز نے آئی پی ایم ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں بھی زراعت کے شعبہ میں ماحول دوست طریقوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔
اس طریقہ سے آلودگی کم ہوگی،ماحول خوشگوار ہوگا،زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوگا اور سب سے بڑھ کر کاشتکاروں کی لاگت کاشت میں کمی واقع ہوگی۔
اس موقع سیکرٹری زراعت نے کہا کہ کپاس، گندم اوردھان سمیت دیگر اہم فصلوں کے ضرررساں کیڑوں کے حیاتیاتی کنٹرول کیلئے آئی پی ایم ماڈل پر عملدرآمد کرایا جائے گاجس سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے علاوہ عوام کو زرعی زہروں سے پاک غذا کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
بعد ازاں وفد نے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا۔اس موقع پرڈائریکٹر کا ٹن ڈاکٹر صغیر احمد نے ادارہ ہذا کے تحت زیر تعمیر نئی عمارت،زرعی لیبارٹریز اور فیلڈ میں کپاس کی نئی اقسام بارے مکمل بریفنگ دی۔


















