غیر قانونی کمرشل عمارتوں کے خلاف آپریشن کے جاری،درجنوں شادی ہالز کمرشل پلازے مسمار کردئے گئے

ضلعی انتظامیہ نے بستی ملوک میں غیر قانونی کمرشل عمارتوں کے خلاف آپریشن کے دوران درجنوں شادی ہالز، کمرشل پلازے اور کاروباری سنٹرز مسمار کر دئے گئے۔
آپریشن کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر صدر عدنان بدر نے کی۔پولیس،سول ڈیفنس فورس،محکمہ ریونیو اور تحصیل کونسل کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھی۔
اسسٹنٹ کمشنر صدر عدنان بدر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی کمرشل بلڈنگز کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جارہی ہے۔بستی ملوک میں 2 شادی ہالز، 3شاپنگ پلازے اور2 ہاوسنگ کالونیوں کے خلاف کاروائی کی گئی ،تین سرکاری سکولوں کے آگے غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا گیا ہے اور متعدد کاروباری مراکز سیل کر دئے گئے ہیں۔
عدنان بدر نے بتایا کہ مخدوم رشید میں 3 میرج ہالز،2 ریسٹورنٹس،2 رہائشی سکیموں اور ایک کنٹرولڈ شیڈ کے خلاف کاروائی کی گئی۔ غیر قانونی کمرشل بلڈنگز کا نہ سیٹ بیک چھوڑا گیا ہے اور نہ پارکنگ کے انتظامات کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی عمارتوں کے مالکان کو پہلا نوٹس اپریل میں جاری کیا گیا،ان مالکان کو پھر حتمی نوٹس بھی جاری کیا گیا ، لیکن یہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بلڈنگ بائی لاز کے خلاف غیر قانونی تعمیرات نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔یہ غیر قانونی کمرشل بلڈنگز شہریوں کے لئے ٹریفک جام جیسے مسائل پیدا کررہی ہیں۔
اس کے علاوہ غیر قانونی تعمیرات سے حکومت کو کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے آپریشن کو سیاسی رنگ دینا ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ غیر قانونی کمرشل بلڈنگز کے خلاف آپریشن ہر ٹاون اور ہر شہر میں ہو گا۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اقدام کو سراہا ہے۔کریک ڈاون میں غیر قانونی کمرشل بلڈنگز کے درجنوں مالکان زد میں آئے ہیں۔
اگر کھمبیوں کی طرح روزانہ اگنے والی غیر قانونی بلڈنگز کو نہ روکا گیا تو پورا شہر یرغمال ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام کاروائی سرکاری ضابطوں اور دستاویزات کو مدنظر رکھ کر کی جارہی ہے۔عدنان بدر نے واضح کیا کہ کسی رہائشی گھر کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔


















