ماہ طلعت زاہدی کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

نامور ماہر تعلیم ،دانشوراور ماہر لسانیات ڈاکٹر اسد اریب نے کہا ہے کہ ماہ طلعت زاہدی آہنی عزم والی حوصلہ مند قلمکار تھیں،انہوں نے شعرو ادب میں انمٹ نقوش چھوڑے ،اور ان کی فکر کی پرتیں آنےوالے زمانوں میں مزیدواضح ہوں گی، وہ انقلابی سوچ رکھتی تھیں ۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور مضامین کے ذریعے حیران کردینے والا اثاثہ چھوڑا ہے۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے سخن ورفورم کے زیراہتمام ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں نامور شاعرہ اور دانشور ماہ طلعت زاہدی کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔
تقریب سے قمررضا شہزاد ،رفعت ناہید، ڈاکٹراحسان بزدار، طلعت جاوید، شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی،ڈاکٹر واجد برکی،شفیق اختر حر،پروفیسر شاہد عباس اورسید سہیل عابدی نے بھی خطاب کیا۔
ڈاکٹر اسد اریب نے مزید کہاکہ ماہ طلعت زاہدی کے آئیڈیلز میں میر تقی میر، گوتم بدھ، سیفو،میرا بائی جیسی انقلابی ہستیاں شامل تھیں۔
تقریب کی مہمان خصوصی رفعت ناہید نے کہاکہ ماہ طلعت میری دوست تھیں۔ ملتان کے ادبی منظرنامے میں انہوں نے ایسے رنگ بھرے جو کبھی مدہم نہیں ہوں گے۔
نامور معالج ڈاکٹر احسان بزدار نے کہا کہ ماہ طلعت زاہدی نے کینسر جیسے مرض کا جس حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا میرے لیے حیران کن تھا۔
طلعت جاوید نے کہا کہ میرا اس خاندان کے ساتھ اپنے لڑکپن سے تعلق تھا۔ بلاشبہ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔
تقریب میں حبیب الرحمن بٹالوی، وسیم ممتاز، نوازش علی ندیم، مستحسن خیال، مختارعلی، مسیح اللہ جامپوری،ارشد حسین ارشد، شاہ نوازخان، پروفیسر اجلال زیدی، شہزاد عمران خان، محمد عبداللہ سمیت ادیبوں، شاعروں اوردانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔



















