میپکو افسروں کے تبادلے : نظام دھرم بھرم ہوگیا

ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) میں افسروں کے ہر روز تبادلوں سےنظام درھم بھرم ہوگیا، ریکوری مہم ناکام اور لائن لائسز میں اضافہ ہوگیا۔
بتایا گیا ہ کہ چیف ایگزیکٹیو میپکو اور بورڈ اف ڈائریکٹر کے چئیرمین کی پالیسی نے کمپنی کی کروڑوں کی ریکوری اور لائن لاسز بڑھا کر نقصان پہنچایا ہے ،من پسند جونیئر ایگزیکٹیو انجینئر صدیق خان کو پہلے منیجر میٹریل کے عہدے پر تعنیات کیا۔ اب ان کو ایگزیکٹیو انجینئر کو منیجر ایم۔اینڈ ایس(مانیٹرنگ اینڈ سرویلینس) لگا دیا جبکہ یہ پوسٹ ایس۔ای لیول کی ھے، جبکہ فیلڈ کے سینئر ایکسئن اس وقت او ایس ڈی ہیں جونیئر ایکسیئن کو سنیئرز افسران کی انکوائریز کرنے کے لیے مانیٹرنگ اور سرویلینس منیجر لگا دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انجینئرز صدیق خاں تجربے میں بہت کم اور ان کا پروفائل بہتر نہیں ہے، تاہم سی ای او کی نظران پر پڑی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک اہم سیٹ پر براجمان ہیں۔
اسی طرح میپکو کمپنی میں گزشتہ ایک ماہ میں ڈویژن اور سب ڈویژن کی سطع پر دو سال کی پالیسی کو نظر انداز کر کے افسران کو من پسند اور نا پسند اور ایم۔این ایز کی بھی پسند اور نا پسند کو سامنے رکھ کر درجنوں تبادلے کیے گیے، جس ریکوری ہدف پورے نہیں کئے جاسکے۔
اس بارے میں ترجمان کا کہنا ہے کہ سی ای او آفیسرز کی کارکردگی کو مانیٹر کررہے ہوتےہیں اور میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں تعیناتیاں افسروں کی قابلیت اور کارکردگی کو دیکھ کی جاتی ہے جو افسر تعینات ہیں ان کو بھی مانیٹر کیا جارہا ہے ۔


















