نشتر2 اختتامی مراحل کی طرف گامزن
پراجیکٹ نشترٹو کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔500 بیڈ پر مشتمل نشتر ٹو کے پہلے فیز پر 4ارب90 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

ایک ارب 20کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا نشتر2 اختتامی مراحل کی طرف گامزن
صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے کے سب سے بڑے پراجیکٹ نشترٹو کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔500 بیڈ پر مشتمل نشتر ٹو کے پہلے فیز پر 4ارب90 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
58 ایکڑ رقبہ پر پھیلے ہوئے اس منصوبے پر1ارب20 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔نشتر ٹو کا منصوبہ اگلے سال جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔پراجیکٹ کے تیسرے فیز میں میڈیکل یونیورسٹی اور نرسنگ کالج کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے گزشتہ روز نشتر ٹو کا دورہ کیا۔نشتر ٹو کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عنصر فرید اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر محمدآصف بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے زیر تعمیر عمارت کے مختلف حصے دیکھے اور منصوبے بارے تفصیلات حاصل کیں۔اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نشتر ٹو کا منصوبہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا ایک بہترین پراجیکٹ ہے۔وزیراعلی عثمان بزدار نشتر ٹو کی جلد تکمیل کے خواہاں ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ تینوں صوبوں کے ملحقہ اضلاع کی عوام کو بھی صحت کی سہولیات میسر آئیں گی۔نشتر ٹو کی تکمیل سے پہلے سے موجود نشتر ہسپتال پر مریضوں کا بوجھ کم ہو جائے گا۔نشتر ٹو ہسپتال جنوبی پنجاب کے وسط میں بہترین لوکیشن پر واقع ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام سے وسیب کی عوام کا ایک اور دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائے گا۔اس کے علاوہ نشتر ٹو کی تکمیل سے روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کو اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے پراجیکٹ کا ماسٹر پلان تیار کیا گیا ہے۔نشتر ٹو کا ایمرجنسی سنٹر 120 بیڈ پر مشتمل ہو گا۔نیورو سائنس اور آرتھو وارڈ120 بیڈ اور گائنی وارڈ160 بیڈ،آئی سی یو50 بیڈ اور شعبہ اطفال کا میڈیسن اور سرجری وارڈ بھی50 بیڈ پر مشتمل ہو گا۔ہسپتال میں12 جدید ترین ماڈیولر آپریشن تھیٹرز قائم کئے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نشتر ٹو کےلئے 2224 افراد پر مشتمل ڈاکٹرز،نرسسز اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات حاصل کی جائیں گی جبکہ پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں مشینری جبکہ تیسرے مرحلے میں میڈیکل یونیورسٹی اور نرسنگ کالج قائم کیا جائے گا۔اس موقع پر بتایا گیا کہ منصوبے کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے اور نشتر ٹو کا پراجیکٹ مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔

















