نوازشریف زرعی یونیورسٹی میں سیمینار

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں کاسیل یونیورسٹی جرمنی اوڈیڈمنی کے الحاق سے” بائیو ڈائی ورسٹی ریسرچ اینڈ پریزرویشن "کے موضوع پر ایک روزہ انٹر نیشنل آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔
بین الاقوامی کانفرنس کی صدارت وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کی جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی کاسیل یونیورسٹی جرمنی کے پروفیسر ڈاکٹر انڈرس برُ کٹ اور ڈاکٹر مارٹین ویل تھے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ پاکستان میں بائیو ڈائی ورسٹی کو محفوظ کرنا بہت اہم ہے ۔ زرعی یونیورسٹی ملتان کاسیل یونیورسٹی جرمنی ساتھ مل کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں بائیو ڈائی ورسٹی پر کام کرے گی جس میں بہاولپور،تھر، چولستان ،گلگت جیسی دیگر جگہوں پر تجربات اور ریسرچ کی جا ئینگی اور امیدہے کہ مثبت نتائج سامنے آئینگے ۔ا اگر کم پانی یا صرف بارش کے پانی سے ہی کاشتکاری کی جا سکے گی تو کسان و کاشتکاروں کو کم خرچ میں بہت فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جبکہ زرعی یونیورسٹی کا مقصد ہی کسانوں و کاشتکاروں کی فلاح ہے۔
کانفرنس سے کاسیل یونیورسٹی جرمنی کے پروفیسر ڈاکٹر انڈرس برکٹ اور ڈاکٹر مارٹین ویل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ملتان کے ساتھ ملکر پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایسے فائدے مند پودے جسے لا علمی کی وجہ سے نظر انداز کیا جا رہا ہے ان کی تلاش کر کے اس سے فائدہ حاصل کیا جائے گا ۔
کانفرنس ڈاکٹر صدر دین صدیقی ڈاکٹر عبدا لغفور ،ڈاکٹر محمد کاشف الیاس ، ڈاکٹر ذولفقار علی اور ڈاکٹر حماد ندیم طاہر نے بھی بائیو ڈائی ورسٹی کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں۔


















