ویمن یونیورسٹی اور یونیسکو کے تعاون سے موحولیات بارے ویبنار
ویمن یونیورسٹی ملتان، میں شعبہ انوائرنمنٹل سائنسز, یونیسکو اور وزارت پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باہمی اشتراک سے ماحولیات کے عالمی دن کے حوالے سے انٹرنیشنل ویبنار کا اہتمام کیا گیا۔
جس میں دنیا بھر سے اہم شخصیات نے شرکت کی، ویبنار کی میزبان وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہ ویمن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ایشو کے حوالے سے ریسرچ اور اقدامات ہوتے رہتے ہیں یہ ویبنار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کےلئے یونیسکو کے شکر گزار ہیں یہ کہ ایسے عالمی ایشو پر ان کے نمائندہ نے شرکت کی وائس چانسلر نے کہا کہ اقوام متحدہ ہر سال عالمی یوم ماحولیات منا کر ماحول کے تحفظ کے لیے شعور اُجاگر کرتی ہے تاکہ قدرتی ماحول کی بقا ء کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔
اس سال عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو ملا ہے اور وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان آج عالمی سرگرمیوں کی قیادت اور رہنمائی کر رہے ہیں۔یہ کامیابی ماحولیات کے تحفظ کے لیے حکومت پاکستان کی کاوشوں بلین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پاکستان کی عظیم مہم کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر عظمی قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کے دوسرے خطوں میں ماحولیاتی تبدیلیاں وہاں پر آج کی انسانی آبادی کی لاپرواہی کی بناء پر دیکھنے میں آرہی ہیں ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ زمین کی فضا میں پہلے سے موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں ہوتی رہیں گی، چاہے ہم آج ہی سے کاربن گیسوں کا فضا میں اخراج روک بھی دیں۔
حکومت پاکستان کا گرین پاکستان ویژن ماحولیات کی بقا کا ضامن بن کر سامنے آیا ہے، وزیر اعظم کے مشیر اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے وزیر اور ویبنار کے مہمان خصوصی ملک امین اسلم نے خطاب کرتے ہوئے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی وجہ سے پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی شراکت میں عالمی یوم ماحولیات 2021 کی میزبانی کررہا ہے ۔
اس سال عالمی یوم ماحولیات منانا ‘ماحولیاتی نظام کی بحالی’ کے موضوع پر ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ، حکومت پاکستان کا 5 سالوں میں پھیلے 10 بلین درخت سونامی کے ذریعے ملک کے جنگلات کو وسعت دینے اور بحال کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس مہم میں مینگروز اور جنگلات کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہری ماحول میں درخت لگانا بھی شامل ہے ، جس میں اسکول ، کالج ، عوامی پارکس اور گرین بیلٹس شامل ہیں۔ حال ہی میں ، وزیر اعظم پاکستان نے 7300 مربع کلومیٹر اراضی کے رقبے کے تحفظ اور 5،500 سے زیادہ سبز روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ملک بھر میں 15 ماڈل محفوظ علاقوں کی ترقی کے لئے پروٹیکٹڈ ایریا انیشیٹو کا آغاز کیا۔
وزیر اسلم نے کہا ، "حکومت پاکستان 10 بلین درخت سونامی اقدام سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے معاملے کو حل کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے ، جو ملک بھر میں 1 ملین ہیکٹر سے زیادہ جنگل کی بحالی اور ان میں اضافہ کرے گی۔” "ہمیں اس سال عالمی یوم ماحولیاتی دن کی میزبانی کرنے اور عالمی بحالی کی کوششوں میں اپنا تعاون دینے کا اعزاز حاصل ہے۔”عالمی یوم ماحولیات کے میزبان کی حیثیت سے ، پاکستان ماحولیاتی امور کو اجاگر کرے گا اور ملک کے اپنے اقدامات اور عالمی کوششوں میں اس کے کردار کو پیش کرے گا۔
یونیسکو کی پاکستان میں نمائندہ اور ڈائریکٹر مسز پیٹرایشا میک فلپش نے کہا ،ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ فطرت کی بحالی ہمارے سیارے اور انسانی نسل کی بقا کے لئے لازمی ہے۔پاکستان نے ملک کے جنگلات کی بحالی کی کوششوںمیں حقیقی قیادت کا مظاہرہ کیا ہےاقوام متحدہ کی کو ششوں کا مقصد آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے کے لئے ، تباہ شدہ اور تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کو بڑے پیمانے پر ایک نمونہ بنانا ہے ، بیجنگ میں یونیسکو کے نمائندہ اورڈائریکٹر پروفیسر شہباز خان نے کہا کہ ہم نے اپنی نسلوں کو آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے، آلودگی کے باعث انسانی صحت اور قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اقوام عالم کو مل کر قدرتی ماحول پر اثرانداز ہونے والے عوامل پر قابو پانا ہوگا۔


















