ویمن یونیورسٹی ملتان میں ورلڈ بائی سائیکل ڈے منایاگیا
ہر سال دنیا بھر میں یونین سائیکلینگ انٹرنیشل(یو سی آئی) 2018 ء سے 3 جون کو عالمی سطح پر منارہی ہے۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ سائیکلنگ دنیا میں اور اولمپک کھیلوں کے پروگرام میں شامل ایک مشہور کھیل ہے۔اس کی تاریخ کا آغاز فرانس میں پیرس اور روین کے مابین پہلی بار ہونے والی پہلی ریسوں سے ہوا تھا۔ آج کل ، سائیکلنگ نہ صرف کھیل کے میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ امن پسندانہ اہداف ، دوستی اور انسانیت کی یکجہتی کی فتح کا بھی ثبوت ہے۔
ڈاکٹر عظمی قریشی نے کہا کہ ماضی قریب میں بائی سائیکل ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ تھی ، گھر گھر میں بائی سائیکل موجود ہوتی تھے جو اب بہت کم رہ گئی ہے بائیسکلنگ ایک مفید سرگرمی ہے۔ آج کی دنیا کی ہلچل میں ، بائیسکلنگ ہمیں اپنے پٹھوں کو ورزش کرنے ، ایندھن کے استعمال میں کمی کرنے کی کوشش ہے اور نقل و حمل کے لیے ایک آسان اور پائیدار ذرائع کی فراہمی ، بائیسکلنگ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے ، معیشت اور ماحول کی بہتری کیلئے ہے۔
اقوام متحدہ نے کئی وجوہات کی بناء پر عالمی یوم سائیکل منایا غریب ترین لوگ بھی سائیکل کے ذریعے بنیادی ٹرانسپورٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نائلہ امتیاز ،( ڈی ایس اے) نے کہا کہ آج کے اس مصروف دور میں بائی سائیکل کی ضرورت ابھی باقی ہے خواتین کو بھی بائی سائیکل چلانی چاہیے تاکے وہ اپنی فنٹس برقرار رکھ سکیں اس دن کا بنیادی مقصد ذہنی اور جسمانی صحت کو مضبوط بنانے کے لیے سائیکلنگ کلچر کو فروغ دینا ہے۔

اس موقع پر طالبات نے بائی سائیکل بھی چلائی ۔



















