پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے پینے کے پانی کا مستند لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کا حکم

ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے پینے کے پانی کا مستند لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جن تعلیمی اداروں کا پانی معیاری نہیں ہو گا وہ آر او واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کے پابند ہونگے۔
یہ بات انہوں نے ڈسٹرکٹ مالنیوٹریشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں محکمہ،صحت، تعلیم ، واسا،پبلک ہیلتھ انجینرنگ، خوراک اور پنجاب فوڈ اٹھارٹی کے افسران نے شرکت کی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ عرفان انجم نے اجلاس کو بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں زیر زمین آرسینک کی موجودگی کا خدشہ ہے۔بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں،انکی صحت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ جن سکولوں کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے انہیں صاف پانی کا متبادل انتظام کرنا ہو گا۔
علی شہزاد نے کہا کہ سرکاری سطح پر لگنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لئے سکولز، بنیادی مراکزصحت اور رورل ہیلتھ سنٹرز کو ترجیح دی جائے،شہری علاقوں میں واسا اور دیہی علاقوں میں پبلک ہیلتھ انجینرنگ واٹر فلٹریشن پلانٹ کو چیک کرنے کی ذمہ داری نبھائیں گے۔



















