پیف سکولوں کے اساتذہ پر قیامت ٹوٹ پڑی

پیف سکولز کے سٹاف کو عید الاضحی تنخواہیں نہیں مل سکیں۔
سکولز نے کورونا لاک ڈاؤن کا بہانہ بنا کر اپنے اساتذہ و سٹاف کوتعلیمی ادارے بند ہونے کے عرصہ کی تنخواہیں نہیں دیں، مگر پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے پوری پیمنٹ وصول کرلی ، اور غریب اساتذہ وسٹاف کو تنخواہوں سے محروم رکھ کر اپنے بینک بیلنس اور جائیدادوں میں مزید اضافہ کرلیا۔
متاثرہ اساتذہ وسٹاف کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دے کر حق کے حصول کے لئے ایجوکیشن اتھارٹی سے رجوع کرنے سے روک دیا۔
واضح رہے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بھی کوئی معیارنہیں ہے۔90فیصد پیف سکولز ان افراد نے کھول رکھے ہیں جن کا شعبہ تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں اور وہ اساتذہ وسٹاف کو ماہانہ چند ہزار روپے وظیفہ دے کر اسے تنخواہو ں کا نام دے کر ان کا مالی استحصال کررہے ہیں ، اور اپنےبینک بیلنس‘ گاڑیوں و اثاثوں میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں۔
تعلیمی حلقوں نےصو بائی وزیر تعلیم مراد راس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیاجائے اور پیف سکولز مالکان کے اثاثوں‘ آمدن و اخراجات کی تحقیقات کرائی جائیں، کہ پیف سکولز کھولنے سے پہلے ان کے مالی حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں‘ اس سلسلے میں نیب کو کیسز بھجوائے جائیں۔



















