کپاس انتہائی اہم مرحلے میں داخل، گلابی سنڈی کے کنٹرول کے لئے حکمت عملی تیار کر لی ہے: ڈاکٹر زاہد محمود

کپاس انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور پودوں پر ڈوڈی،پھول اور ٹینڈے بننے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ ساتھ ساتھ گلابی سنڈی کا حملہ بھی بڑھتا جا رہا ہے، یہ بات سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سی سی آر آئی ملتان کی سروے ٹیم کے مطابق اس وقت پنجاب کے مختلف اضلاع مثلاً خانیوال، میاں چنوں،ملتان، بہاولپور، لودھراں، میلسی، وہاڑی،مظفر گڑھ،ڈی جی خان اور راجن پور میں گلابی سنڈی کے حملہ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اس لئے ہمیں گلابی سنڈی کے لئے ایک اچھی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ گلابی سنڈی کے حملے سے فصل کو بچایا جا سکے۔
گلابی سنڈی کے خلاف لگا تار 3 سپرے بارے اگلے تین ہفتوں کی حکمت عملی بارے انہوں نے کاشتکاروں کو اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ جہاں پر گلابی سنڈی کا حملہ شدت اختیار کر جائے تو وہ پہلا سپرے گیما سائی ہیلوتھرین بحساب 100ملی لٹریا سپنٹورام بحساب 100ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں، اور اس کے بعد دوسرا سپرے 7 دن کے وقفہ سے سپنٹورام بحساب100ملی لٹر یا گیما سائی ہیلوتھرین بحساب 100 ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100 لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں، اور اس کے بعد تیسرا اور آخری سپرے کاشتکار 7دن کے وقفہ سے سائپر میتھرین + پروفینو فاس 600ملی لٹر یا ٹرائی ایزوفاس+ڈیلٹا میتھرین 600ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں۔



















