کپاس کی کم پیداواری لاگت اور ماحول دوست نئی ٹیکنالوجی متعارف کرادی گئی

سی سی آر آئی نے کپاس کی کم پیداواری لاگت اور ماحول دوست نئی ٹیکنالوجی”کم خرچ،ماحول دوست طریقہ کاشت” متعارف کرادی ہے جس سے نہ صرف کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ پیداوار ی لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔
یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر زاہد محمود نے اپنے بیان میں کہی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اس ٹیکنالوجی کو لیف ٹیک(LEEF Tech) یعنی( Low Expenditure & Environment Friendly Tech) کا نام دیا گیا ہے۔اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے زمین میں بار بار ہل چلانے کی نوبت نہیں آتی اورکپاس کے لئے زمین کی تیاری خاص طریقہ سے کی جاتی ہے جس میں بیڈ کی چوڑائی 42 انچ جبکہ کھیلیوں کی چوڑائی 18انچ رکھی جاتی ہے اور اسے مستقل طور پرتیار کر لیا جاتا ہے اور ہر سال کپاس کی کاشت کے لئے دوبارہ سے بیڈ اور کھیلیاں بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بیڈ پر مونجی کی پرالی بطور ملچنگ بچھا دی جاتی ہے جبکہ کھیلیوں میں گندم کی بھوسی بچھا دی جاتی ہے اس عمل سے زمین کا ٹمپریچر سخت گرمیوں میں بھی نارمل رہتا ہے اور پودا کم پانی استعمال کرتا ہے اور اس کے ساتھ کپاس کے پودے کی غذائی ضروریات با ٓسانی پوری ہو جاتی ہیں اس عمل سے دوہرا فائدہ ہوتا ہے ایک تو زمین کی زرخیزی بڑھانے والے جرثومے زیادہ دھوپ کی شدت سے مرتے نہیں اور دوسرا زمین میں موجود نامیاتی مادہ محفوظ رہتا ہے اور بتدریج بڑھتا رہتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کھاد،پانی اور دیگر زرعی مداخل کا استعمال بھی بہت کم ہوتا ہے جس سے کپاس کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور کپاس کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مونجی کی پرالی اور گندم کی بھوسی وغیرہ زمینی ٹمپریچر کو نہ صرف معتدل رکھتے ہیں بلکہ کچھ عرصہ میں گل سڑ کر زمینی کی زرخیزی میں خاطر خواہ اضافہ بھی کرتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ زیادہ بارشیں بھی اس طریقہ کاشت سے فصل پر اثر انداز نہیں ہوتیں اور نہ ہی جڑی بوٹیوں کا اگاؤ ہوتا ہے۔
اس طرح جڑی بوٹیوں کی تلفی کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی میں ایک خاص مشین تیار کی جاتی ہے جس کی قیمت عام کسان کی دسترس میں ہے جو گندم کے سیزن میں اسی کاشتہ زمین پر گندم کی کاشت بذریعہ ڈرل ہوسکے گی اور گندم ہموار زمین کی بجائے پٹریوں پر کاشت کی جا سکے گی۔
ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ اگر پاکستان کی زمینیں بھی اس نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھال دی جائیں تو پاکستان میں زرعی انقلاب آسکتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد محمود کا مزید کہنا تھا کہ مروجہ طریقہ ہائے کاشتہ کپاس پر پیداواری لاگت میں اضافے کے ساتھ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہو تی جا رہی ہے اور سخت گرمی کے موسم میں کپاس کا پودا اپنی بقاء کے لئے اپنی ساری توانائی صرف کر دیتا ہے جس سے زرعی مداخل کا استعمال بڑھ جاتا ہے مگر لیف ٹیکنالوجی کی مدد سے کپاس کی فصل نہ صرف سخت گرمیوں میں اپنی بقاء بآسانی بنائے گی بلکہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کپاس کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی سے کپاس کی کاشت کارجحان بڑھے گا اور کپاس کے پیداواری رقبے میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔


















