ہائی کورٹ کا ساہیوال یونیورسٹی میں بد انتظامی پر نوٹس،جو اب طلب کرلیا.
نئی پیدا شدہ آسامیوں کی تختیاں ذاتی تعلقات کی بنا پر پہلے ہی وی سی کے دفتر کے باہر نصب کر دی گئیں ہیں

عدالت عالیہ ملتان بنچ نے یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر کے احکامات کو معطل کرتے ہوئے 21اپریل کو جواب طلب کرلیابتایا گیا ہے کہ بخش علی نامی شخص نے عدالت عالیہ لاہور ملتان بینچ میں رٹ دائر کی کہ یونیورسٹی آف ساہیوال میں مستقل وی سی کے نہ ہونے سے قائم مقام وائس چانسلر نے خلاف میرٹ تعیناتیاں کرنے کی کوشش کررہے ہیں .جبکہ متعدد ٹھیکے بھی من پسند افراد کو دئے ہیں انہوں دسمبر2018 میں فیکلٹی کی بھرتی کے لیے اخبارات میں اشتہارات دیے اس اشتہار پر بھرتیوں کا سلسلہ تاحال 2021 نا مکمل ہے۔2018 میں مشتہر آسامیوں کی بجائےمن پسند افراد کو نوازنے کےلئے نیا اشتہار جاری کردیاگیاجس کی اسامیاں یونیورسٹی کے بجٹ میں منظور شدہ ہی نہ ہیں نئی پیدا شدہ آسامیوں کی تختیاں ذاتی تعلقات کی بنا پر پہلے ہی وی سی کے دفتر کے باہر نصب کر دی گئیں ہیں۔

وائس چانسلر نے جونیئر اساتذہ کوجن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے کو انتظامی عہدو پر تعینات کرنے کے حامی ہیں تاکہ ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مرضیاں کی جا سکیں۔۔گریڈ ایک سے سولہ تک سینکڑوں امیدوار اپنی قسمت کا فیصلہ ہونے کے انتظار میں ہیں لیکن و ائس چانسلر نے ان کی تقرری کو بھی پس پشت ڈال دیا اور غیر معمولی تیزی سے نئی تخلیق شدہ آسامیوں پر اپنی مرضی کی تعیناتیاں عمل میں لانے میں مصروف ہیں جبکہ ان کو سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے اراضی کرپشن کیس میں عہدے سے ہٹایا تھا۔
جبکہ سنیارٹی میں جونیئر اور ناتجربہ کار خواتین بھی وی سی ساہیوال کی نوازشات سے اپنے سینئرز کو نیچا دکھانے اور وی سی سے تعلقات پر وی سی دفتر کے باہر ہی اپنے ناموں کی تختیاں آویزاں کر کے کلاسز پڑھانے کی بجائے وی سی دفتر میں بیٹھنے لگ گئیں ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے اساتذہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔جبکہ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق وائس چانسلر کسی بھی قسم کی نئی بھرتی نہیں کرسکتا اس لئے ان کوخلاف میرٹ اور قانون تعیناتیاں کرنے سے روکا جائے جس پر عدالت عالیہ نے وائس چانسلر کے احکامات کو معطل کرتے ہوئے 21 اپریل کو یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا۔


















