Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

یونیورسٹی آف ساہیوال میں خلاف میرٹ بھرتیوں کے انکشاف

یونیورسٹی آف ساہیوال کی ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور اقارباپروری کے انکشافات ہوۓ ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسوقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر افضل استعفیٰ دے کر کینیڈا واپس چلے گئے۔

باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی میں ایک لائبریرین جو اوورایج تھا کو مبلغ چھ لاکھ کے عوض میرٹ پامال کر کے بھرتی کیا گیا، پہلے نوکری سے برخاست ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو بھاری رقم کے عوض بھرتی کیا گیا، ایک ایسے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کیمسٹری بھی بھرتی کیے گئے جن کے ریسرچ پیپرز ہی پورے نہیں تھے۔

مزید برآں ایک بی اے پاس امیدوار کو ڈپٹی رجسٹرار بھرتی کرلیا گیا، مگر مقابلے میں ایم فل تعلیم کے حامل امیدوار کو انٹرویو کے لیے ہی نہ بلایا گیا-
جب کہ دوسری طرف یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسرز بھرتی کرنے کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مجوزہ طریقہ اختیار کیے بنا ہی سلیکشن کی گئی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مجوزہ طریقہ کے مطابق ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سلیکشن کے لیے تمام امیدواروں کی جانچ کے لئے درخواستيں کسی ترقی یافتہ ملک کے فل پروفیسر کے پاس بھیجنا ضروری ہے، مگر یونیورسٹی آف ساہیوال میں ایسا نہیں کیا گیا اورکچھ کیسز میں ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے انٹرویوز بھی اسسٹنٹ پروفیسرز سے کروانے کی اطلاعات ہیں۔

کرپشن اور اقارباپروری کے ان انکشافات کے بعد بھرتیوں کا تمام عمل مشکوک ہو چکا ہے، جسکی تحقیق غیر جانبدار کمیشن سے ہونا ضروری ہے۔
ساہیوال کی سول سوسائٹی اور شہریوں نے حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ جلد از جلد تحقیقات کی جائيں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button