203 ویں یوم سقوطِ ملتان کی تقریب

تاریخ سے نا آشنائی ہمیں جہالت اور لا علمی کے زمانے میں لے جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی جس تیزی سے آگے کی جانب سفر کررہی ہے، ہم اس سے کہیں تیز رفتاری سے تنزلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔اپنی موجودہ نسل کو اپنی تاریخ کے بارے میں آگاہ کرنا اب ہمارا فرض بن چکا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی میں ذرا سی بھی کوتاہی اور کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید نے ظلم کے خلاف اپنی اور اپنے خاندان والوں کی جان اللہ کی راہ میں قربان کر کے عملی ثابت کیا ہے کہ حق اور نا انصافی کی جنگ میں حق کا ساتھ دیتے ہوئے سر جھکایا نہیں جاتا بلکہ سینہ تان کر دشمن کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔
جس شخص کے نام پر مظفر گڑھ شہر کا نام رکھا گیا، جس کے والد کے نام سے شجاع آباد شہر منسوب ہے اور جس کی بہن کے نام سے خان گڑھ آباد ہوا، وہ شخص نواب مظفر خان سدوزئی شہید ہماری نا اہلی و بے حسی کے سبب آج تاریخ میں کھو چکا ہے۔
سیاسی و سماجی رہنما میجر (ر) مُجیب احمد خان نے ان خیالات کا اظہار روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مُلتان کے زیر اہتمام 203ویں یوم سقوطِ مُلتان و 14ویں سالانہ تقریب بیاد سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پردیگر مقررنین شوکت اشفاق (صحافی)، شاہد محمود انصاری (چئیرپرسن شیلٹر ہوم دارلامان)، ڈاکٹر فاروق لنگاہ، ایم احسان خان سدوزئی،عزیز احمد خان، جواد امین قریشی،عرفان الحق حقانی اور منور خورشید صدیقی نے کہا کہ نواب مظفر خان سدوزئی کی شہادت سے شروع ہونے والا استحصال کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سرائیکی خطہ کے عوام کو ہمیشہ ٹشو پیپیر کی طرح استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں جس نے اپنے حقوق کے لئے موثر آواز بلند کی اس کا انجام بخیر نہیں ہوا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طارق فاروق، جاوید اقبال، اسحاق خان سدوزئی، ڈاکٹر عبدالسمیع اور رانا عرفان نے کہا کہ سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید جدید مُلتان کا بانی حکمران تھا۔ ہمیں اپنے اکابرین کی قدر کرنا ہوگی۔ کارڈیالوجی سنٹر مُلتان نواب مظفر شہید کی آبائی رہائش گاہ تھی، اس کارڈیالوجی سنٹر کو یا ملتان میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں میں سے کسی ایک کو سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید سے منسوب کیا جائے تاکہ ہم اپنے اسلاف کو خارج عقیدت پیش کر سکیں۔
تقریب میں آفاق خان لنگاہ، رئیس الرحمان قادری، چوہدری منصور، اعجاز رسول، حاجی شریف، فرحان الحق حقانی، جیدی خان، قاری اقبال و دیگر شریک ہوئے۔




















