Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

نینو ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال کے لیے قانون سازی کی جائے :ریسرچ سکالرز

ویمن یونیورسٹی ملتان کے ڈیپارٹمنٹ آف بائیو کیمسٹری اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ” بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی میں اختراع اور جدید ایجادات ” کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روز بھی شرکا نےا پنی ریسرچ مقالے پیش کئے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اور انسان کا ساتھ دنیا کی ابتدا سے ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ابتدا اور آج کی ٹیکنالوجی میں زمین، آسمان کا فرق ہے۔ انسان نے درخت و دیگر اشیاء کو کاٹنے کے لیے کلہاڑی اور دیگر اوزار تیارکیے جو ا نسان کی بنائی ہوئی ابتدائی ٹیکنالوجی تھی۔ آج دنیا جدید سے جدید تر ہوتی چلی جارہی ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی نے نہایت تیزی سے ترقی کی ہے اور نئی نئی اشیاء انسان کو مہیا کر دی ہیں۔
انسان کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ہزاروں سہولتیں استعمال کر رہا ہے اور بہت سی مشینو ں کی وجہ سے بہت سے کام منٹوں میں اوربعض صرف ایک اشارے سے ہو جاتے ہیں۔
آج کے دور میں تیزی سے مقبول ہونے والی ٹیکنالو جی نینو ٹیکنالوجی ہےچند برسوں میں نینو ٹیکنالوجی نے بہت زیادہ ترقی کی ہےاس سے صاف ظاہر تھا کہ بیسویں صدی کے آخر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جو بڑا انقلاب پیدا کیا تھا، اکیسویں صدی میں نینو ٹیکنالوجی اس سے بڑا انقلاب لا ئے گی۔
اس ٹیکنالوجی کا مستقبل بہت ہی روشن مانا جارہا ہے۔
اس کے باوجود یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ اس کی مدد سے بنی ہوئی اشیاء کتنی محفوظ ہوں گی۔ کئی خاص تحقیقوں اور مختلف ملکوں میں تیار کی جانے والی رپورٹس میں اس کے حفاظتی پہلو ؤںپر شک ظاہر کیا گیا ہے۔ لیکن ایک خطرہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی صحت اور ماحول کو بھاری نقصان پہنچ سکتاہے۔
اس ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والا خام مال در اصل وہ سا ر ی اشیاء ہیں جو جان داروں اور بے جان اشیاء کی پیدائش میں خاص بلڈنگ بلاک یا مکان میں استعمال ہونے والی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آج اس ٹیکنالوجی سے تیار شدہ سامان بازار میں موجود ہے۔ چائے، کافی اور کھانے پینے کی اشیاءکے گرنے سے پڑ نے والے داغ نہ قبول کرنے والے کپڑے اور دوا سے لے کر سنگھار اورفیشن کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء بھی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بننے لگی ہیں۔
دوسری طرف ریسرچ میں یہ خدشات بھی بڑھتے جارہے ہیں کہ اس طرح سے بنی ادویہ یا کریم جسم کے خلیوں میں گھس کر انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔کھانے پینے کی اشیاءاور ادویات میں اس ٹیکنالوجی کااستعمال ہونے پرجہاں بہت سے افراد خوش ہیں، وہیں سائنس دانوں ا و رماہرین ماحولیات کو فکر ہورہی ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال کے لیے نئے قوانین بنانا ضروری ہو گیا ہے۔
نینوسے مراد ایسی اشیاء ہیں جو سوئی کی نوک سے تقریباً ایک ملین گنا چھوٹی ہوتی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں آجائیں گی یہ طبی اور صنعتی تحقیق کے لیے نہایت ہی مفید ثابت ہو گی ، ماہرین نے زراعت کے شعبے سے لے کر کینسر کے علاج اور تشخیص میں نینو ٹیکنالوجی کا استعمال اور فوائد پر بھی روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے دوسرے روز 2 انٹرنیشنل اور 13 نیشنل سکالرز نے اپنے ریسرچ مقالے پیش کیے .
کانفرنس کے تین سیشن تھے جن کی صدارت ڈاکٹر محسن خورشید، ڈاکٹر محمد فرخ اور ڈاکٹر مرتضیٰ حارث نے کی۔ اس کے علاوہ پوسٹ مقابلے کا انعقاد بھی کیا گیا ہے۔
آج جمعہ کو کانفرنس کا آخری روز ہوگا ،جس کی مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی ہوں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button