” بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی میں اختراع اور جدید ایجادات ” تین روز ہ کانفرنس اختتام پذیر

ویمن یونیورسٹی ملتان کے ڈیپارٹمنٹ آف بائیو کیمسٹری اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام اور پنجاب ایچ ای سی کے تعاون سے ہونے والی ” بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی میں اختراع اور جدید ایجادات ” کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اس اعلامیہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ معاشرے کی ترقی اورفلاح بہود کےلئے سائنس کے جدید تقاضوں کو اپنایا جائےگا۔
جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے انسانی زندگی میں سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی، بائیو ٹیکنالوجی کی ایسی ٹیکنیکس کو ترقی دینا جو صنعتوں اور ادویات کی تیاری کیلئےحیاتیاتی طریقوں پر مبنی ہو،بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کےلئے تمام تر پلیٹ فارم استعمال کئے جائیں گے ۔
تین روزہ کانفرنس کے آخری روز دو سکالر نے اپنے ریسرچ پیپر پیش کئے ۔
ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر واجد نذیر نے جدید مالیکولر بیج کی بدولت پنجاب میں کپاس کی پیدوار بارے اپنی تحقیق پیش کی جبکہ ویمن یونیورسٹی کے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی لیکچرر زرمینہ راشد نے سڈ لیبل ڈرگ کی کنٹرول ڈلیوری کے لیے پی ایچ ریسپانسیو کیمیکل طور پر کراس لنکڈ اینیونک مائکروجیلز کا اندازہ بارے اپنا پیپر پڑھا۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی ملتان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ جدید علوم کی آبیاری اور اس کی ترویج کےلئے تما م سٹیک ہولڈرز کو ساتھ رکھتی ہے، 2021 کی آخری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔
اس کانفرنس سے اختراعی تخلیقی صلاحیتوں اور دریافت کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے ایجاد اور تحقیق میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کردار سراہے جانے کے قابل ہے، ڈاکٹر عطاءالرحمٰن کی کاوشوں کو کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتے وہ سائنسی علوم کی ترقی کےلئے تمام یونیورسٹیوں کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں ویمن یونیورسٹی کےلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کےلئے ملکر کام کرنا ہے جب ہم سائنس او رایجادات کی بات کرتے ہیں تو خواتین بھی پیچھے نہیں ہیں خواتین نے ثابت کیا ہے وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔
تقریب کی مہمان خصوصی ڈاکٹر مرتضیٰ ( ڈائریکٹر پنجاب ایچ ای سی ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے ویمن یونیورسٹی ملتان کا علمی اور تحقیق تعاون بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ نتیجہ خیز ثابت ہو گا۔
سپیکر ڈاکٹر فضل ربی نے خطاب کرتے ہوئے نینو ٹیکنالوجی پر کانفرنس کے انعقاد اور اس ٹیکنالوجی کی افادیت کے حوالے سے طالبات میں بیداری اور تعلیمی پیش رفت پر مبارکباد دی اور اس پیش رفت پر دلی مسرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ اس یونیورسٹی میں تحقیقی کام ہو اور یہ تحقیقی مقالے دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں پیش ہوں۔ ڈاکٹر مریم زین نے اپنے خطاب میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔
انہوں نے کہا بالخصوص نینو ٹیکنالوجی کے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نینو ٹیکنالوجی کانفرنس کو صرف تقریروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس سے حاصل ہونے والے علم کو ملک و قوم کی ترقی کے لیے عملی جامہ سمجھنا چاہیے۔
کانفرنس میں مجموعی طور پر 100سے زائد پیپر پیش کئے گئے ، اس کانفرنس میں 8 بین الاقوامی مقررین نے شرکت کی اور 60 پریزنٹیشن , 40 پوسٹر پریزنٹیشن شامل ہیں ۔
پوسٹر مقابلے میں پہلی پوزیشن مریم بشیر (چولستان یونیورسٹی), دوسری پوزیشن عائشہ سمرا، اور تیسری پوزیشن عائشہ عندلیب، ویمن یونیورسٹی ملتان کی طالبہ نے حاصل کی ۔ اس تین روزہ کانفرنس میں مختلف یونیورسٹیوں کی طالبات نے حصہ لیا۔
آخر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی نے تمام مقربین اور ورگنزیرس میں سرٹیفکیٹ تقیسم کیے۔


















