یوم احتجاج: ہائیڈرو یونین کے احتجاجی ریلی
آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے زیر اہتمام مرکزی جنرل سیکرٹری خورشید احمد کی ہدایت کے مطابق میپکو کے ہزاروں ملازمین نے ملتان پریس کلب کے سامنے "یوم احتجاج” منایا،ملازمین نے قومی پرچم اور مطالبات کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے_
ملتان میں احتجاج کی قیادت ریجنل چیئرمین چوہدری غلام رسول گجر نے کی،احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری غلام رسول گجر ریجنل چیئرمین میپکو نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر توانائی سے پر زور مطالبہ کیا کہ قومی مفاد میں بجلی کی منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری قطعا نہ کی جائے،تمام غیر مستقل ملازمین کو خالی آسامیوں پر مستقل کیا جائے، ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کو کم کرکے منجمد کرکے اور غریب عوام اور محنت کشوں کو مہنگائی کے عذاب سے بچایا جائے،انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ عوامی مفاد کے اداروں کی نجکاری کے بجائے ان کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے گی۔لیکن تاحال ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔
ریجنل چیئرمین ریونیو شکیل بلوچ نےحکومت وقت سے پر زور مطالبہ کیا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی،نجی تھرمل پاور ہاؤس،راولپنڈی ملتان نجی بجلی کمپنیوں کے ناکام تجربہ کے پیش نظر محکمہ بجلی کی منافع بخش کمپنیوں کی آئی ایم ایف کے دباؤ پر مجوزہ نجکاری کا پروگرام عوامی مفاد میں بند کریں۔انہوں نے بجلی کمپنیوں کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جان لیوا حادثات ختم کرانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔
ریجنل سیکرٹری سجاد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کے محکمہ بجلی واپڈا کے ملازمین کو خطرناک ترین بجلی کے کام کرنے کے دوران حادثات سے محفوظ کرانے کے لیے لائن سٹاف کی خالی جگہوں پر بھرتی اور جدید اور معیاری ٹی این پی کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر کی جائے۔
زونل چیئرمین چوہدری محمد خالد نے کہا ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں کم کرکے انہیں ایک مدت کے لیے منجمد کریں اور ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا سختی سے محاسبہ کریں۔
میپکو ریجن کے تمام سرکل رحیم یار خان،بہاولپور، بہاولنگر،وہاڑی،ساہیوال,خانیوال،ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
قرارداد کے ذریعے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا گیا کہ وہ صحافی برادری کے مطالبات اور آزادی صحافت کے لیے بنیادی حق اصولوں کے مطابق باہمی مشاورت سے جلد حل کریں۔
ملک کے صحافیوں کو یقین دلایا کہ میپکو کے محنت کش آزادی صحافت کے بنیادی حق کی سربلندی کیلئے ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
احتجاج سے رانا محمد انور،حاجی الطاف مہارچوہدری یونس،رانا زاہد جاوید،راشد یامین،عاطف زیدی،سلیمان بلوچ،عاطف خان،ملک تنویر،الیاس جٹ،شہباز علی،چوہدری شفاقت،مجاہد اعوان،مسعود علوی,رانا محمد عمران،چوہدری زاہد،چوہدری اظہر،چوہدری زاہد،رانا طیب،آغا حسین،اختر بھٹی،رانا حسنین،شوکت بلوچ،عمران بشیر،میاں علیم،اشفاق علوی،محمد اعجاز،رانا نواز،ذیشان سیال،راؤ اسلم،انوار فرید گجر،عقیل زاہد،رانا نواز،رانا سلیم تاج،منظور اعوان،
ارسلان انور،محمد شہزاد،عنصر عباس،شاہد رضا ملک،شاہد بشیر،شیخ عارف،ملک بابر،طارق سلیم،اکبر طاہر،رانا شاہد،عاشق ڈوگر،سعید سیال،چوہدری راشد،سرور انصاری،عشرت علوی،اسرار انصاری،ملک امیر،رمضان شہزاد،چوہدری سرمد،سعید احمد،امجد ڈوگر،ساجد جمیل علوی،چوہدری علی گل،رانا پرویز،مختار انصاری،چوہدری نعیم،فیاض راں،احمد جان،ملک عثمان لیاقت،ارشد کھیڑا،شہباز رندھاوا،محمد اقبال،خرم خان،رانا خلیل،رانا نوید،ملک عثمان لیاقت،مظہر عباس و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔


















