Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

تربیتی پروگرام کا مقصد گلابی سنڈی کے انسداد کے لئے مربوط طریقہ کارپر عمل کیا جائے: ڈاکٹر زاہد محمود

سی سی آر آئی ملتان میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے محکمہ زراعت پیسٹ وارنگ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے زرعی آفیسران سے ادارہ ہذا میں منعقدتربیتی پروگرام برائے کپاس کی گلابی سنڈی منعقد ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ کپاس کی گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے پی بی روپس اور پنک بول ورم مینیجر ٹیکنالوجی کا استعمال بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ اس وقت کپاس کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ کیڑے مکوڑوں میں سفید مکھی اور گلابی سنڈی کپاس کی فصل کے لئے دو بڑے ایشوز ہیں ، جن سے نمٹنے کے لئے سی سی آر آئی ملتان کے زرعی ماہرین اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان میں کافی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی پنجاب کے تمام اضلاع میں سی سی آر آئی ملتان دیگر متعلقہ محکمہ جات کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ساتھ بھی ٹریننگ پروگرامز کی مشترکہ کوششوں کی بدولت گلابی سنڈی و دیگر کیڑے مکوڑوں کے حملہ کے کنٹرول میں اپنا اہم کردار ادا کرے گی، جس کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری آئے گی۔
سی سی آر آئی ملتان کی پوری کوشش ہے کہ آئیندہ سیزن میں بھی کپاس کی بھرپور پیداور حاصل ہو اور آج کا تربیتی پروگرام بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔
سربراہ شعبہ حشریات،سی سی آر آئی ڈاکٹر رابعہ سعید کا کہنا تھا کہ آخری چنائی کے بعد کپاس کی چھڑیاں گلابی سنڈی کی آماجگاہ ہوتی ہیں۔
ان چھڑیوں پر لگے باقی ماندہ بچے کھچے متاثرہ نرم ٹینڈوں میں موجود گلابی سنڈی کی تلفی کو ہرصورت ممکن بنایا جائے۔
اس کے علاوہ آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں مویشیوں کو چرانے کے لئے کھیت میں چھوڑا جائے۔ کپاس کی چھڑیوں کو کھیت میں کٹائی کے بعدان کے چھوٹے چھوٹے گٹھے بنا کر انہیں عمودی سمت سورج کی روشنی کے رخ رکھا جائے اور ہفتہ میں ایک آدھ بار چھڑیوں کو الٹ پلٹ کرتے رہیں اور نیچے بچے کچرے کو زمین میں کھود کر دبا دیا جائے یا انہیں جلا دیا جائے۔
اگر یہ زیادہ مقدار میں ہوں تو اینٹوں کے بھٹوں میں بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر رابعہ سعید نے تربیتی شرکاء کو بتایا کہ جننگ فیکٹریوں میں موجود کچرے کی تلفی نہایت ضروری ہے تاکہ آئندہ کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملے سے بچایا جا سکے۔
انہوں کپاس کی چھڑیوں کے ڈھیر اور جننگ فیکٹریوں کے کچروں کے اردگرد ایک،ایک جنسی پھندے لگانے کی بھی سفارش پیش کی۔
ڈاکٹر رابعہ سعید نے آف سیزن مینجمنٹ کے علاوہ دوران سیزن بھی گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے سفارشات پیش کیں، سیڈ ڈیلنٹنگ، کپاس کاوقت کاشت، پی بی روپس کا استعمال، قدرتی دشمن کیڑوں، بائیو ریپیلینٹ اپیلی کیشن وزرعی زہروں کے استعمال بارے بھی تفصیل سے سفارشات پیش کیں۔
اس موقع پرشعبہ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی نے تربیتی شرکاء کو گلابی سنڈی سے متعلق تربیتی لٹریچر بھی فراہم کیا۔ بعد اذاں تربیتی شرکاء کو ادارہ ہذا کے تجرباتی کھیتوں میں لے جایا گیا جہاں انہیں کپاس کی گلابی سنڈی سے متعلق عملی تربیت بھی فرام کی گئی اور اس موقع پر ماسٹر ٹرینی تربیتی شرکائ کے لئے کھیتوں میں پنک بول وورم مشین کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا جسے شرکاء نے بے حد سراہا اور اس مشین کو کپاس کی گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے نہایت مفید قرار دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button