ایسا نظام چاہتے ہیں مسائل کے حل کا اختیار مقامی نمائندوں کو ہو: کرامت علی شیخ

پاک سرزمین پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر کرامت علی شیخ نے کہا ہے کہ پی ایس پی ملک میں ایسا نظام لانا چاہتی ہے، جس میں گلی محلے کے مسائل حل کرنے کے اختیارات اور وسائل مقامی منتخب نمائندے کے پاس موجود ہوں، پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ پر 70 سال سے الزام لگا کر ملک کیساتھ فراڈ کرنے والوں کا دائمی راستہ روکنے اور پاکستان کی بقاء، ترقی اور سلامتی کے حصول کے لیے تین آئینی ترمیم کو ناگزیر قرار ہیں۔
پہلی ترمیم یہ ہے کہ وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کی طرح میئرز کے اختیارات اور ڈپارٹمنٹ بھی آئین میں لکھ دیے جائیں ۔
دوسری ترمیم یہ ہے کہ این ایف سی کی مد ملنے والے پیسے پی ایف سی کے زریعے ڈسٹرکٹ کو منتقل کرائے جائیں اور جب تک صوبہ ڈسٹرکٹ کو پی ایف سی کے زریعے پیسے نہیں دیتا تب تک این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کیا جائے۔
تیسری ترمیم یہ ہے کہ پاکستان میں اسوقت تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نہ ہوں جب تک بلدیاتی کونسل نہیں بنا لی جاتی۔
اس میں کراچی سے کشمیر تک کسی کا نقصان نہیں بلکہ سب کا فائدہ ہے۔ پاک سر زمین پارٹی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک میں جاری بحرانوں اور دہشتگردی کی اصل وجوہات اور اسکا دائمی اور قابل عمل حل پیش کررہی ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس ملتان میں دیگر رہنماؤں ضلعی صدر راؤ تیمور، حاجی میاں رشید، میاں مبشر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔
کرامت علی شیخ نے مزید کہا کہ 2016سے شروع ہونے والی پاک سر زمین کی تحریک آج پاکستان کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے،مصطفی کمال کا نظریہ امن ترقی اور خوشحالی پر مبنی ہے اور ہمارا یقین ہی ہماری طاقت ہے کیونکہ ہم امن کے پیغام کو لیکر سیاست کے میدان میں اترے ہیں پی ایس پی کا فکر و فلسفہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور مختلف قومیتوں، زبانوں اور مذاہب کے ماننے والے عوام پی ایس پی کے پرچم تلے متحد ومنظم ہو کر اپنے حقوق کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کر رہے ہیں، ہم تعصبات کی بجائے پاکستانیت چاہتے ہیں۔
ہماری پارٹی نے کراچی میں پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے انہوں نے کہا کہ ملک پر کرپٹ مافیا براجمان ہو چکے ہیں، پاک سر زمین پارٹی ملک میں ایسے نظام کے قیام کے لئے جدو جہد کر رہی ہے کہ جس میں عوام طاقت میں آئیں اور اہنے مسائل خود حل کریں بلدیاتی حکومتوں کو وسائل یا اختیارات کبھی قانون اور انصاف کے مطابق نہیں دیئے گئے بلکہ اس میں سیاسی
مفادات ہی عزیز رہے ہیں جس کی وجہ عوام حقیقی جمہوریت سے محروم رہے ہیں۔
ہمیں روٹی، کپڑا یا مکان کے فقط نعرے دیے گئے اور اس قوم کو بھکاری قوم سمجھا گیااس وقت روٹی، کپڑا، مکان اورروزگار کو عوام کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے اوپر کی سطح پر براجمان مفاد پرست اشرافیہ نے اختیارات اور وسائل کو اپنی منشا کے مطابق استعمال کیا ہے۔
ہمیں عزت، انصاف اور اختیار نچلی ترین سطح پر حاصل ہوں گے تب ہی ہم اپنے مسائل خود حل کر سکیں۔
اس نظام کی کامیابی کے بغیر معیشت کی کشتی ڈوبتی نظر آ رہی ہے انہوں نے کہا کہ پی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ اگر بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جاتے تو پھر نہ تو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے چاہئیں اور نہ ہی قومی اسمبلی کے انتخابات ہونے چاہئیں۔
بلدیاتی نظام موثر بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل A140 میں بلدیاتی اداروں کی مکمل تشریح کیساتھ این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ پی ایف سی ایوارڈ کو لازمی قرار دینا ہوگااوراس ایوارڈ کے ذریعے آئین میں بلدیاتی حکومتوں کی ذمہ داریوں اور وسائل کا تعین ہونا چاہیے تاکہ ہر آنے والی حکومت آئین میں لکھی بلدیاتی حکومتوں سے متعلق من مانی تشریح نہ کرسکیں۔
عام عوام میں ملک کے وسائل اور مسائل میں شرکت اور احساس ذمہ داری بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے نیشنل فائنانس کمیشن کے طرز پر پرونشئیل فائنانس کمیشن کا قیام ناگزیر ہے.
جب تک اختیارات اور وسائل نچلی سطح پر مکمل طور پر منتقل نہیں ہو جاتے اس وقت تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا بلکہ جمہوری نظام بھی نافذ نہیں ہو سکتا ہے۔
اسی لئے ضروری ہے کہ عام شہری کو ہر سطح پر انصاف کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔



















