ورلڈ بینک بچوں کا سکول لانے کا پراجیکٹ شروع کرے گا، پیف سے مذاکرات شروع

ورلڈبینک پاکستان کے آوٹ آف سکول بچوں کےلئے پریشان ہوگیا اور ان کےلئے لیکر آیا ہے نیا منصوبہ جس میں پیف کے ساتھ ملکر پراجیکٹ شروع کرے گا کہ تمام بچے سکولوں میں آسکیں۔
اس سلسلے میںمنیجنگ ڈائریکٹر پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اسد نعیم کی سربراہی میں ورلڈ بنک کے وفد سے آن لائن میٹنگ ہوئی، جس میں ورلڈ بنک کے ٹیم لیڈر کیون گیون، تازین فصیح اور عائشہ طاہر نے شرکت کی۔
جبکہ پی ایم آئی یو ڈیپارٹمنٹ کے ریسرچ اینڈ پالیسی ونگ کے ہیڈ عبدَالمفتی بھی میٹنگ میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ورلڈبنک پنجاب میں آؤٹ آف سکول چلڈرن اور لرننگ پاورٹی پر کام کرنا چاہتا ہے۔ 2018کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں 18.7ملین آؤٹ آف سکول چلڈرن اور صوبہ پنجاب میں آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد تقریباً 9.7ملین ہے۔ ان تمام بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے بہترین حکمت عملی کی ضرورت ہے اور پیف اس میں اہم کردار ادرکر سکتا ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر پیف اسد نعیم نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ورلڈ بنک کا کردار ہمیشہ سے قابل ستائش رہا ہے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن پہلے ہی پنجاب کے غریب اور مستحق بچوں تک معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہے ۔
جبکہ پرائمری اور مڈل لیول کے سکولوں کی تعداد بڑھا کر آؤٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں لایا جا سکتا ہے۔
ایم ڈی پیف نے کہا کہ اگر پیف کو مالی طور پر سپورٹ کیا جائے تو پیف کم خرچ میں آؤٹ آف سکول چلڈرن اور لرننگ پاورٹی پر اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔
میٹنگ میں ڈپٹی ایم ڈی (آپریشن)شاہد اسماعیل مرزا، ڈائریکٹر (فنانس)زبید الحسن، ڈائریکٹر (ای وی ایس) کرنل اطہر رؤف، ڈائریکٹر (این ایس پی) عائشہ نعمان، ڈائریکٹر (قائداکیڈمی ) شفیق احمداور دیگر افسران نے شرکت کی۔


















