ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے ایک سال میں 7946 شکایات کا ازالہ کیا

ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی شہریوں کی آن لائن شکایات کے ازالے کے حوالے سے پبلک سروس ڈیلیوری کے دوسرے اداروں پر بازی لے گئی ہے۔
کمپنی نے سال2021میں آن لائن سروس ڈیلیوری کا ڈیٹا جاری کردیا ہے، جس کے مطابق ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 7946 شکایات کا ازالہ کیا گیا، جس میں کمپلینٹ نمبر 1139پر موصول ہونیوالی5967 شکایات اور "خدمت آپکی دہلیز” پورٹل پر آنیوالی 1979 شکایات شامل ہیں۔
کمپنی کے شکایات کے نظام کو مزید ڈیجیٹلائز کرنے کے لئے موبائل ایپ لانچ کرنے کے لئے اقدامات کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ سی ای او محمد فاروق ڈوگر کے کمپلینٹ سیل اور کنٹرول روم کے دورہ کے موقع پر کیا گیا۔
کمپنی سیکرٹری محمد کبیرخان،چیف انٹرنل آڈیٹر آصف طاہر اور منیجر آپریشن داود مکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔منیجر آئی ٹی عمران خان نے اس موقع پر بریفنگ دی۔
سی ای او محمد فاروق ڈوگر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شکایات سیل کے نظام کا ڈیجیٹل ہونا انتہائی خوش آئندہ ہے۔ڈیجیٹل نظام سے شہریوں کو گھر بیٹھے صفائی بارے شکایت درج کرانے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپلینٹ سسٹم کو مزید ڈیجیٹلائز کرنے کے لئے یوز فرینڈلی ایپ کی ضرورت ہے۔موبائل ایپ کی تیاری کے لئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی خدمات حاصل کی جائیں۔
سی ای او نے کہا کہ موبائل ایپ سے شہریوں کیلئے صفائی بارے شکایت اور فیڈبیک کا میکانزم آسان ہوجائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ صفائی بارے شکایات کے ازالے کے لئے ٹائم لائن مقرر کی جائے گی اور ٹائم لائن کے اندر شکایت کا ازالہ نہ کرنیوالوں کو جوابدہ بنایا جائے۔سی ای او نے کمپلینٹ سنٹر سے ایک شہری کو کال بھی کی اور شکایت کے ازالے کے حوالے سے فیڈ بیک بھی لیا۔
سی ای او و ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد فاروق ڈوگر کو اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹال فری نمبر 1139 پر موصول ہونے والی شکایت واٹس ایپ کے ذریعے متعلقہ سیکٹر کو بھیج دی جاتی ہے جبکہ متعلقہ سیکٹر شہری کی شکایت کے ازالے کی تصاویری ثبوت فراہم کرتا ہے۔شکایت کے ازالے کے بعد شہری سے فون پر فیڈ بیک بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
سی ای او کو بتایا گیا کہ شہری فیس بک آئی ڈی MWMMULTAN پر اور واٹس ایپ نمبر 9215555-0305 پر بھی شکایت پوسٹ کر سکتے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کنٹرول روم میں کمپنی کی تمام گاڑیوں کی لائیو ٹریکنگ کی جاتی ہے جبکہ کمپنی پارکنگ یارڈ کی کلوز سرکٹ کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔



















