مسلم ہائی سکول کے ٹیچر کی 15سالہ طالبعلم کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، پولیس پہنچ گئی

گورنمنٹ مسلم ہائی سکول کے ٹیچر کی 15سالہ طالبعلم کے ساتھ مبینہ جنسی حراساں کرنے کی کوشش،ٹیچرکی شکایت کے لئے جانے والے اہلخانہ کوعملہ نےیرغمال بنالیا،ڈی ایس پی کینٹ نےپولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ کرتفتیش شروع کردی ۔
تفصیل کے مطابق ملتان کے ایک سکول میں طالب علم کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آگیا نویں کلاس کاطلابعلم آکاش گورنمنٹ مسلم ہائی سکول کلمہ چوک میں زیرتعلیم ہے ،جسکا ٹیچر اشفاق خان آئے روز طالبعلم کو جنسی حراساں و پریشان کرتا رہتا تھا۔
آکاش نے ٹیچر کے حوالے سے ساراواقعہ اہلخانہ کوبتایا، تو اہلخانہ ٹیچر اشفاق خان کی شکایت لیکر گورنمنٹ مسلم سکول کے ہیڈماسٹرکے پاس پہنچ گئے ۔
جہنوں نے اہلخانہ کوکہاکہ معاملہ کی انکوائری ہورہی اور تم یہاں کیا لینے آئے جو نتیجہ آئے گا، تمہیں آگاہ کردیاجائےگا۔
اسی بات پراہلخانہ اوراستاتذہ کی ٹیچر کے خلاف کارروائی نہ کیئے جانے پرتلخ کلامی ہوگئی ، سکول ہیڈماسٹر نے اپنے ٹیچر اورعملہ کی مددسے سکول کاگیٹ بندکرواکر آنے والے اہلخانہ کویرغمال بنالیا۔
اسی دوران سپیشل برانچ کے اہلکار نے وقوعہ کی اپنے موبائل سے وڈیو بنانا شروع کی تو ہیڈماسٹرنے سپیشل برانچ کے اہلکار کاموبائل چھین لیا، اورمارپیٹ شروع کردی ۔
اہلخانہ نے سکول سےپولیس چہلیک کو 15 پرباطلاع دی توڈی ایس پی کینٹ سلیم اللہ نیازی ،ایس ایچ اوچہلیک عمران گل نیازی سمیت بھاری نفری کے ساتھ موقع پرپہنچے۔
پولیس نےسکول انتظامیہ کی طرف سے یرغمال بنائی جانے والی فیملی کوباحفاظت باہرنکالا، اور ڈی ایس پی نے اہلخانہ کوانصاف کی یقین دھانی کرواتے ہوئے دی جانے والی درخواست پرٹیچر اشفاق خان اور ہیڈماسٹر سمیت عملہ کےخلاف کارروائی شروع کردی ۔
پرنسپل رانا اسلم انجم نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر تحریری طور پرڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو لکھ رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی کے ساتھ بھی ناانصافی و زیادتی نہ ہواور حقائق کے مطابق کارروائی کی جائے۔



















