Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ:ایل ایل بی کیس کا فیصلہ آگیا

زکریا یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ نے ایل ایل بی کیس کی قسمت کافیصلہ سنا دیا گیا، سولر پراجیکٹ لگانے کی منظوری، نوا زشریف زرعی یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر سے زبردستی گھرخالی کرنے اجازت ، پی آر او کی تنخواہ میں اضافہ کردیا گیا۔

تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اہم اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کی صدارت میں ہوا، شام گئے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ایجنڈا پورا نہ ہوسکا، دو والیم آئندہ اجلاس تک موخر کردئےگئے۔

اجلاس کا سب سے اہم کیس ایل ایل بی تین سالہ پروگرام تھا، جس کی ابتدائی انکوائری کی رپورٹ پیش کی گئی جس کی روشنی میں ہاؤس نے فیصلہ کیا کہ اصل ذمے داروں کے تعین کےلئے باقاعدہ انکوائری شروع کرنے کی منظوری دی گئی اور کہاگیا کہ ذمے داروں کی تعین ہونے پران کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے اور اس کی رپورٹ 60روز میں پیش کی جائے ۔

اس دوران رجسٹریشن کے معاملات کو کلیئرکیا جائے اور قانون کے مطابق اصل امیدوار الگ کرکے ان کا امتحان لیا جائے تاہم اس وقت تک امتحان نہیں ہوں گے جب تک اس کیس کافیصلہ نہیں ہوگا ۔

ہاؤس نے ڈاکٹر اسحاق فانی اور یاسر انوار چودھری کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی منظوری دی کہ ڈاکٹر اسحاق فانی سے ریکوری کے تعین کےلئے انکوائری افسر تعینات کیا جائے۔
ان کی ریٹائرمنٹ پر ریکواری کے تعین تک ان کی پنشن اور واجبات روک لئے جائیں کیونکہ کی ریٹائرمنٹ رواں برس ہوگی، جبکہ یاسر انور چودھری سے ریکوری کےلئے پیڈاایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔

سینڈیکیٹ نے یونیورسٹی سے سکالر شپ پر بیرون ممالک جانے والے مفرر سکالرز کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی اور ان کے خلاف پولیس کیس کے ساتھ ساتھ غیر ممالک کو ان کے خلاف کیسوں سے آگاہ کی منظوری دی۔

اجلاس میں یونیورسٹی کیمپس میں سولر پراجیکٹس لگانے کی منظوری دی تاہم یہ فیصلہ کیاگیا کہ اس پراجیکٹ میں یونیورسٹی کی سرمایہ کاری نہیں ہوگی تھر ڈ پارٹی کو سرمایہ کاری کرنا ہوگی ، اور اس سلسلے میں ٹی او آرز بھی تشکیل دئے جائیں ۔

ہاؤس نے نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ سے کالونی کا گھر زبردستی خالی کرانے کی منظوری دے دی اور کہاگیا کہ ان کو 8سال مہلت دی گئی مگر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیاگیا اب کو 16دن کی مہلت دی جائے اور اس کے بعد سیکورٹی کی مدد سے گھر خالی کرالیاجائے۔

وائس چانسلر کی 16تین کے تحت کئے گئے تمام اقدامات کی منظوری دے دی گی ڈاکٹر عذیر ، ڈاکٹر سعید اختر شیخ اور ڈاکٹرثروت سلطان کو چیئرمین بنانے کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس میں یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر مرزا اعجاز بشیر کی تنخواہ 35ہزار سے بڑھا کر 50ہزار کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی، ۔

اجلاس میں متفقہ طور پر بہاو الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے ملکی و غیرملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ کیے گئے مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو ) کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں یونیورسٹی انجینئر ملک رفیق کے خلاف مزید کاروائی کے لیے انکوائری آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ۔

اجلاس میں چند پروفیسرز صاحبان کو ٹینور ٹریک دینے کی بھی منظوری دی گئی ۔
اجلاس میں سسٹم انجینئر لبنیٰ مصطفے کو اور گریڈ 16 کے ملازم ندیم اسلم کو مستقل کردیاگیا ۔

اجلاس میں تمام اساتذہ کرام ، آفیسرن اور ایمپلائز کو ہیلتھ انشورنس پالیسی دینے کے حوالے سے بحث کی گئی۔ جس پر ممبران سینڈیکیٹ نے حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ہیلتھ کارڈ سکیم کے متعارف ہونے تک اس کیس کو آئندہ اجلاس تک ڈیفر کردیاگیا۔

اجلاس میں کینسر و لیور پلانٹ کے علاج معالجہ کی مد میں خرچ کی گئی رقم اساتذہ کرام کو دینے کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں حکومت پنجاب کے رولز کے مطابق یونیورسٹی ڈیلی ویجز ملازمین کو ان کے ویجز دینے کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر اکبر انجم اور ڈاکٹر علیم احمد خان کی سٹڈی لیو کے حوالے سے اپیل مسترد کردی گئی تاہم دوبارہ جائزہ لینے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جو اپنی سفارشات آئندہ سینڈیکیٹ کو دے گی ۔

اجلاس میں ہارٹی کلچر کو انسٹی ٹیوٹ بنانے کا کیس ڈیفر کردیاگیا۔
اجلاس میں شعبہ آئی ایم ایس کے اسسٹنٹ پروفیسر شکور خاکوانی کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کورٹ کیسز سمیت ایجنڈا میں شامل اہم نکات کی بھی منظوری دی گئی۔

ممبران سینڈیکیٹ کی درخواست پر وائس چانسلر نے آئندہ اجلاس جلد از جلد کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس میں سینڈیکیٹ کے ممبران ایم پی اے محمد ندیم قریشی ، جسٹس (ریٹائرڈ) محمد خالد علوی ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر علیم احمد خان ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور سے مسٹر عبدالرئوف ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے مسٹر محمد رضا چوہان ، فنانس ڈیپارٹمنٹ لاہور سے مسٹر شاہسوار، بی زیڈ یو سے پروفیسر ڈاکٹر محمد اکبر انجم، ڈاکٹر محمد ریاض ، ڈاکٹر جویریہ عباس ، انجینئر محمد یوسف رضا ، خزانہ دار صفدرعباس ، رجسٹرار صہیب راشد خان نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button