ملتان میں آکسیجن کی مینوفکچرنگ اور تقسیم کی مانیٹرنگ شروع
این سی او سی کی ہدایت پر آکسیجن کی مینوفکچرنگ اور تقسیم کی مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ملتان علی شہزاد کی زیرصدارت بھی گزشتہ روز آکسیجن کے مینوفکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مینو فکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز نے پاکستان میں آکسیجن کی وافر مقدار میں دستیابی کی نوید سنادی۔
ڈسٹری بیوٹرز نے بتایا کہ انڈیا میں کورونا کے حالات اور آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آکسیجن کی مینوفکچرنگ اور سپلائی کا لیول برقرار ہے۔تمام پبلک اور پرائیویٹ ہسپتالوں کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن کی سپلائی جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے آکسیجن مینوفکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آکسیجن مینوفکچرنگ پلانٹس فل کیپسٹی پر چلائے جائیں، ان پلانٹس کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی۔اس کے علاوہ آکسیجن ڈسٹری بیوٹرز کی گاڑیوں کی نقل حمل میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی،ڈپٹی کمشنر نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ شہری بلاوجہ آکسیجن سلنڈر گھروں میں رکھنے سے اجتناب کریں اور آکسیجن سلنڈر ضرورت پڑنے پر ڈسٹری بیوٹرز سے خریدے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ آکسیجن سلنڈر مہنگے داموں فروخت کرنیوالوں کے خلاف کاروائی کرے گی۔علی شہزاد نے کہا کہ آکسیجن مینو فکچرنگ پلانٹس کی مانیٹرنگ کے لئے ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، آکسیجن مینو فکچرنگ پلانٹس کے منیجرز اور ڈسٹری بیوٹرز ،سی ای او ہیلتھ، پبلک ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس،ہیلتھ کمیشن،میپکو،پولیس اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔


















