طلبہ یونین کی بحالی طلبہ کا آئینی اور جمہوری حق ہے:جمعیت

ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی طلبہ ثوبان شرجیل نے کہا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی طلبہ کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔
ان کو آئینی اور جمہوری حق سے محروم رکھا جا رہا ہے ، 38 سال قبل 9 فروری کو اس وقت کے آمر فوجی ضیاء الحق نے طلبہ یونین پر پابندی لگائی۔
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی ثوبان شرجیل نے کہا کہ طلبہ یونین کو بحال کیا جائے تاکہ طلبہ اپنے آئینی اور جمہوری حق سے محروم نہ ہوں طلبہ یونین کی بحالی سے تعلیمی اداروں کا ماحول پہلے سے بہتر ہوگا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جو تعلیمی اداروں میں آئے دن لڑائی جھگڑے کے واقعات رونماء ہوتے ہیں ان میں بہت حد تک بہتر ہو گی اور ان فسادات کو روکا جائے گا۔
اس جمہوری ملک میں رکشہ یونین، ٹیچر یونین، وکلا یونین،مارکیٹ یونین تک بحال ہیں، لیکن جو طلبہ اس ملک کا اثاثہ ہیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اُن طلبہ کو ہی جمہوری حق سے محروم رکھنا کہاں کی جمہوریت ہے ۔
طلبہ یونین بحال نہ ہونے کی وجہ اے تعلیمی اداروں میں مافیا کا قبضہ ہے جو میرٹ کی پامالی، فیسوں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔
صرف طلبہ یونین بحال نہ ہونے کی وجہ سے اس مافیا نے تعلیمی اداروں کو کاروبار بنا رکھا ہے جو طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگاتے ہیں اس جمہوری ملک کے اندر طلبہ کو ان کے جمہوری حق سے محروم رکھنا جمہوری حکومتوں کا غیر جمہوری طرز عمل ہے جسکے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ نے اس دن کو تمام تعلیمی اداروں میں یوم سیاہ کے طور پر منایا ۔
اسلامی جمعیت طلبہ مطالبہ کرتی ہے کہ طلبہ یونین کے انتحابات کو بحال کیا جائے ، اور طلبہ کو ان کے آئینی حق سے محروم نہ رکھا جائے۔



















