بیوروکریسی کے پیپکو کو بچانے کےلئے کوشیش،اشتہار شائع کرادیا

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے احکامات ہوامیں اُڑاتے ہوئے پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی(PEPCO) نے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے راستے ڈھونڈنے شروع کردئیے۔
پیپکو کے خاتمے کے نوٹیفکیشن کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے اختیارات کا بھرپور اور ناجائز استعمال جاری۔
وزارت توانائی کو معاونت فراہم کرنے والا ادارہ ظاہر کرکے جنرل منیجرز عہدے کی خالی آسامیوں کے لئے اشتہار جاری کردیا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیپکوکے خاتمے کے اعلان اور نوٹیفکیشن کو عملی جامہ نہ پہنایاجاسکا۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ قرض حاصل کرنے کے لئے کئے گئے معاہدوں میں شامل پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی (PEPCO) کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجودپیپکو،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے معاملات سنبھالے ہوئے ہے۔
مارچ2021ء کے دوران وزارت توانائی نے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کو ختم کرنے اور اختیارات بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ز کو منتقل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیاتھا جس پر تاحال عملدرآمد نہ ہوسکاہے۔پیپکو میں ڈیلی ویجز پر ریٹائرمنٹ کے بعد خدمات سرانجام دینے والے سابق جنرل منیجر ہیومن ریسورس صغیر احمد نے دوبارہ ملازمت اختیارکی اور اب بھی پیپکو کو قائم رکھنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں اختیارات سنبھالے ہوئے ہیں جو ملک کی بیوروکریسی کی طاقت اور بااثر ہونے کی واضح مثال ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ یا ڈیلی ویجز پر ملازمت دینے پر پابندی عائد کررکھی ہے لیکن عدالت عظمی کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیپکو میں بیوروکریٹس اعلیٰ ریٹائرڈ افسران کو نوازکرقومی خزانے کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان پہنچارہے ہیں۔


















