خواتین سائنس دانوں کی ریسرچ، ایجادات اور کاروباری آئیڈیاز بارے ورکشاپ
ویمن یونیورسٹی میں شعبہ زوالوجی اور نیشنل اکیڈمی فار ینگ سائنسٹسٹ پاکستان کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کی عنوان ’’خواتین سائنس دانوں کی ریسرچ، ایجادات اور کاروباری آئیڈیاز ‘‘کا تعارف تھا ۔
مہمان خصوصی نیشنل اکیڈمی کے ڈاکٹر آفتاب احمد تھے ۔
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز، انجینئرنگ اور میڈیسن ورکشاپ منعقد کرانے کا مقصد خواتین سائنس دانوں کی مشکلات کو کم کرنا جو خواتین کی کاروباری کوششوں میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہیں ان کی خدمات کو سامنے لانا ہے۔
یہ ورکشاپ سائنس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ، اور طبی صنعتوں میں کاروباری افراد کی صنفی اور نسلی تنوع پر کارگرثابت ہوگی۔
ورکشاپ میں کو شش کریں گے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور میڈیکل صنعتوں میں خواتین کاروباریوں کی کم نمائندگی کرنے والی موجودہ ساختی رکاوٹوں کو تلاش کیا جا سکے۔
ان رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے کے عوامل کو زیر بحث لایا گیا تاکے جو انٹرپرینیورشپ میں خواتین کی مدد گار ثابت ہوں ۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ ہماری خواتین معاشرے میں کسی طور بھی مردوں سے کم نہیں ہیں ، مگر 2020 میں غیرمعمولی عالمی بحران کے آغاز میں، خواتین سائنسدان مردوں کے مقابلے زیادہ کمزور دکھائی دیں۔
حالیہ تحقیق نے خواتین سائنسدانوں کی اشاعتوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی کو ظاہر کیا ہے، کیونکہ کوویڈ کے وبائی امراض کے دوران بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کی دیکھ بھال میں ذمہ داریوں کا ایک بڑا بوجھ برداشت کرنا ہے۔
ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں سائنس میں خواتین کی کردار کو خطرے میں ڈالتی ہیں، اور یہاں تک کہ خواتین کی طرف سے اب تک کی گئی کچھ کوششوں اور کامیابیوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔
اس پس منظر کی بنیاد پر، ان نامساعد حالات کے باوجود جن میں خواتین سائنسدان کام کرتی ہیں کی ستائش لازمی ہے یہ ورکشاپ ایسی خواتین کے حوصلے بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اس کی دور رس نتائج برآمد ہوں گے ورکشاپ میں فیکلٹی آف سائنس کی ممبران اور دیگر اساتذہ اور افسر بھی موجودتھیں ۔
اس ورکشاپ کی فوکل پرسن ڈاکٹر آسیہ بی بی تھیں۔


















