’’زمین کی خرابی – خوراک اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ ‘‘ دوروزہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی

بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے شعبہ سوائل سائنسز کے زیراہتمام ’’زمین کی خرابی – خوراک اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ ‘‘ کے عنوان پر ہونے والی دو روزہ نیشنل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر علیم احمد خان نے کہاکہ آئندہ نسلوں کے لیے زمین اور ماحول کو بہتر کرنا اشد ضروری ہے ۔
اس سے نہ صرف زمین کی پیداوار ی صلاحیت بڑھے گی۔ اور خوراک کا معیار بھی بڑھے گا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماحول کی خرابی کی ذمہ داری ہماری صنعتی ترقی اور ہم خود ہیں۔ کروونا کے دوران ماحول میں بڑی بہتری آگئی تھی۔
چیئرمین شعبہ سوائل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد عابد کھرل نے اپنے خطاب میں دور دراز سے آئے ہوئے سائنسدانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
کانفرنس میںڈاکٹر عظیم خالد اور ڈاکٹر ساجد مسعود بارانی یونیورسٹی راول پنڈی، غلا م قادر سوائل سلینٹی زرعی تحقیقی ادارہ پنڈی بھٹیاں ، ڈاکٹر محمداشفاق انجم اور غلام قادر ایوب زرعی تحقیقی ادارہ فیصل آباد ، مدثر عزیز محمدنواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان اورڈاکٹر اظہر نواز سرگودھا یونیورسٹی نے اپنے تحقیقاتی مقالہ جات پیش کیے۔
کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر محمد اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے معروف سائنس دانوں نے کانفرنس کے عنوان سے ’’ زمین کی خرابی – خوراک اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ ‘‘ سے متعلق ریسرچ آرٹیکلز پیش کیے، اور اختتامی سیشن میں مختلف سائنسدانوں کی تحقیق سے اس سنگین مسئلہ کے حل کے لیے ڈاکٹر محمد اشرف نے سفارشات مرتب کیں جو درج ذیل ہیں۔
’’ زمین کو بدحالی اور خرابی سے بچایا جائے ، قدرتی وسائل کو مثلا زمین کو اس کی استعداد سے زیادہ استعمال نہ کیاجائے۔
نامیاتی اور مصنوعی کھادوں کو فصلوں کی ضرورت کے مطابق صحیح مقدار میں ملا کر استعمال کیاجائے ۔
زمین میں نامیاتی مادے کو مختلف طریقوں سے بڑھایا جائے۔
زمین کی صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بجٹ کا پانچ فیصد لگایا جائے ۔
‘‘کانفرنس کے انعقاد میں کنزوایجی ، سائبان گروپ آف کیمیکلز ، بائیو فورس کیمیکلز ، فاطمہ گروپ ، المقیت کیمیکلز ، انوویٹو کیمکلز نے معاونت کی۔کانفرنس میں اساتذہ طلباء طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔



















