’اسلامی انقلاب کا تصور: عبیداللہ سندھی ، ابواعلیٰ مودودی ، علی شریعتی کے افکار کا تجزیاتی مطالعہ ‘‘

ویمن یونیورسٹی ملتان میں پی ایچ ڈی پبلک ڈیفنس کی تقریب منعقد ہوئی ،جس میں شعبہ اسلامیات کی سکالر مسز مصباح فاطمہ نے اپنے مقالے ’’’’اسلامی انقلاب کا تصور: عبیداللہ سندھی ، ابواعلیٰ مودودی ، علی شریعتی کے افکار کا تجزیاتی مطالعہ ‘‘کا کامیاب دفاع کیا، اور حاضرین کے سوالوں کے جوابات دئے ،جس کے بعد ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کی سفارش کی گئی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرہ (ایکسٹرنل سپروائزر)اور ڈاکٹر اکرم رانا ( سپروائزر) نے کہا کہ سکالر مسز مصباح نے ایک بڑے موضوع پر سیر حاصل مقالہ تحریر کیا، اسلامی انقلاب کے حوالے سے تین بڑے مفکرین کو یکجا کرنا ان کا کارنامہ ہے۔
مولاناعبیداللہ سندھی ” ہندوستان (پاک و ہند) میں یورپ کی قسم کا مادی انقلاب چاہتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصود علم اور سائنس کی وہ برکات ہیں، جن سے آج کل یورپ مستفید ہو رہا ہے۔ وہ اسے اپنے ملک میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی نظر صرف اس مادی انقلاب تک محدود نہیں۔ ان کے پیش نظر تو ہر فرد انسانی کا تعلق کائنات کی رُوحِ کل سے جوڑنا ہے، اور اسی کو وہ اسلام سمجھتے ہیں۔ تاہم ان کے نزدیک جب تک انسان مادی دنیا پر قابو نہ پا لے اور علم و سائنس کی برکتیں ہر شخص کے لیے عام نہ ہو جائیں، انسانیت بحیثیت مجموعی اسلام کے قریب نہیں آ سکتی۔
اسلام کی حکومت خدا کی حکومت ہے۔ خدا کی حکومت کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نعمتیں اس کے سارے بندوں کے لیے عام ہو جائیں۔
"اسی طرح علی شریعتی نے ایرانی معاشرے کو عروج پر لیجانا چاہا اور شاعر مشرق اقبال کے افکار سے مدد لی اقبال اور علی شریعتی کے افکار میں حیرت انگیز طور پر مماثلت ہے۔
اس میں شک نہیں کہ علی شریعتی نے فکراقبال علی شریعتیپر غوروخوض کرنے کے بعد اُس سے اثر قبول کیا ہے، تاہم اس میں بھی شبہ نہیں کہ جس قسم کے حالات سے اقبال کو سابقہ پڑا کم وبیش ویسے ہی حالات کا ایرانی قوم کو بھی سامنا تھا۔
ایرانی نوجوان نسل یورپی تہذیب کی چمک دمک کے سامنے اپنا نظریاتی اور اسلامی تشخص کھو چکی تھی علی شریعتی نے بھی اپنی فکر کی بنیاد اسلام کو ہی قرار دیا۔ جدید فلسفیانہ رجحانات کے پیشِ نظر انھوں نے عمرانی مسائل پر بڑے حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی۔
علی شریعتی ایک سوشل ریفارمر ہیں ان کے پیش نظر مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی ہے چاہے وہ تعلیمی میدان میں ہو یا صنعتی میدان میں۔وہ اپنی سوئی قوم کو جھنجھوڑ کربیدار کرتے ہیں اور ان کو ان کا شاندار ماضی یاد دلاتے ہیں۔
اس ضمن میں وہ سب سے پہلے انسان کی بحیثیت انسان پہچان کرواتے ہیںاور بعد میں بحیثیت مسلمان۔ اسلام ان کا دین ہے ، اور اپنے فکر کی اٹھان اسلام ہی سے اٹھاتے ہیں جبکہ مولانا ابواعلی ٰ موودی نے اسلامی قومیت کے ساتھ ساتھ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا، اور رائج اصطلاحوں مثلاً تھوڈیموکریسی ، الٰہی جمہوریت ، پاپولر خلافت اور شورائیت کو عین اسلامی اصولوں کے مطابق از سرِنو پیش کیا۔ اور انتخابی سیاست کی ایسی صراطِ مستقیم دکھائی یہ پورا مقالہ پڑھنے لائق ہے ایسی عمدہ ریسرچ سے ویمن یونیورسٹی کا معیار مزید بلند ہوگا۔



















