ویمن یونیورسٹی میں خواتین کے عالمی دن کے موقع تقریب کا انعقاد

ویمن یونیورسٹی ملتان میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیرء کے زیرِ اہتمام تقریب کا اہتمام کیاگیا، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کی ۔
تقریب میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے علاوہ مختلف مقابلے بھی منعقد کرائے گئے، جس میں طالبات اور اساتذہ نے بھرپور شرکت کی ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ یہ دن منانے کا مقصد خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی دینا، اور ان کی معاشرتی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
کیونکہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی معاشرے کے عظیم رشتے اور استحکام کی ضمانت ہیں۔
آج دنیا بھر کی خواتین متحد و منظم ہوکر خود پر لگائے ، صنفِ نازک کا ٹیگ اتار کر اپنے ضبط شُدہ حقوق کی بحالی کے لیے جرات مندانہ آواز بلند کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان اور اِس جیسے سماجی بدحالی سے دوچار ممالک میں فی زمانہ خواتین چار دیواری کے اندر اور باہر یکساں استحصال کا شکار ہیں۔
بعض معمولاتِ زندگی میں صنفی عدم مساوات سے کہیں بڑھ کر اب جسمانی و جنسی تشدد، اغواء، آبرو ریزی، خود کُشی پر اُکسانا، بے راہ روی و بے غیرتی کے الزام میں قتل اور ایسے کتنے مصائب و آلام سے آگے جا پہنچی ہے۔
آج بھی دُنیا میں خواتین بھر پور ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے باوجود امتیازی سلوک سے دوچار ہیں۔ دُنیا کی دو تہائی خواتین ناخواندہ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ خواتین پر تشدد، ٗقتل کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔عورتوں کی شرح خواندگی 33 فیصد ہے۔ مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے لاکھوں خواتین اپنی تعلیم کا درست استعمال نہیں کر سکتیں۔ مادر وطن میں خواتین کو صحت کی سہولیات بہت ہی کم ہیں۔
پاکستان میں اب حالات بدل رہے ہیں خواتین میں تعلیم عام ہورہی ہے تاہم خواتین اپنے حقوق جاننے ہوں گے اور معاشرے کو ان کو جگہ دینا ہوگی یوم خواتین تقاضا کرتا ہے کہ ہم اسلام کی زریں اصولوں کو اپناتے ہوئے خواتین کے متعین کردہ حقوق انہیں دیں ورنہ آخرت میں سخت عذاب ہوگا دنیا میں عزت واحترام نہیں ملے گا۔
تقریب میں رجسٹرار ڈاکٹر قمر رباب، ڈاکٹر عدیلہ سعد اور دیگر اساتذہ نے بھی شریک کی۔
اس موقع پر طالبات نے خواتین کے حقوق کی عکاسی کرتے ہوئے مختلف ڈرامے پیش کئے، آخر میں ریلی بھی نکالی گئی جس کی قیادت رجسٹرار ڈاکٹر قمر رباب اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیرء ڈاکٹر عدیلہ سعد نے کی۔
شرکاء نے خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے کے تمام طبقات میں خواتین کی نمائندگی اور تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیا۔



















