خانیوال کے کالجز میں مالی بے ضابطگیاں اور بدانتظامی، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کبیر والا پر کرپشن کے الزامات

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے کالجز کا آڈٹ کیا تھا ، جس میں کالجز میں فنڈز مینجمنٹ اور انتظامی امور کا جائز ہ لیا جانا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سیکرٹری ندیم محبوب نے کالجز کی پرنسپل کو اپنے فنڈز استعمال کرنے اختیارات دئے تھے کہ وہ قانون کے مطابق ان کو استعمال کریں، اور اس کی رپورٹ کریں۔
بعد ازں جب کالجز کی رپورٹنگ کےلئے ایچ ای ڈی کی اعلیٰ سطحی ٹیم نے کالجز کادورہ کیا، اور رپوٹ مرتب کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ سب سے بدترین کارکردگی خانیوال کے کالجز کی رہی۔
ان کی ایجوکیشن کا معیار پنجاب بھر میں سب سے نیچے تھا۔
جبکہ خانیوال کی کالجز میں سے بری کارکردگی کبیروالا کالج کی تھی، جس کی بنیادی وجہ پرنسپل کی نااہلی،غفلت کو قرار دیا گیا کہ پرنسپل ڈاکٹر ابرارا آبی کا ڈیوٹی پر ریگولر نہ آنا،محکمہ تعلیم کے رولز و ڈسپلن کی خلاف ورزی اور گورنمنٹ خزانہ میں پیسے جمع نہ کرانے کی بجائے ڈائریکٹ پرنسپل اکاونٹ میں پیسے ڈیپازٹ کرانا اور غیر قانونی طور پر پیسے نکلوانا شامل ہے۔
سپیشل انسپکشن کمیٹی نے رپورٹ میں مزید بھی بے تحاشا مالی بے ضابطگیوں کے انکشافات کیے ہیں۔
اس رپورٹ کے بعد ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکام نے انکوائری کے احکامات جاری کردئے ہیں ۔


















