Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

گورنمنٹ گریجویٹ کالج ساہیوال کا آٹھواں کانووکیشن

گورنمنٹ گریجویٹ کالج ساہیوال کے آٹھویں کانووکیشن کا انعقاد کیاگیا۔

وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کونووکیشن کے مہمان خصوصی تھے ، جبکہ مہمانان اعزاز ڈی پی آئی کالجز پروفیسر ڈاکٹر عاشق حسین اور ڈائیریکٹر کالجز پروفیسر محمد مسعود فریدی تھے ۔

کانووکیشن میں 2018 تک کے تمام بی اے، بی ایس سی اور ایم اے ایم سی کے 387 طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں ، جن میں سے 318 طالبات تھیں۔

ان کے علاوہ چار سالہ بی ایس پروگرام کے 2019 تک کے طلبہ و طالبات میں بھی ڈگریوں کی تقسیم کی گئیں۔

تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا معاشرے کو ترقی کی سمت دینے میں اہم کردار ہے اور آپ ملک کی ترقی کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے۔

انہوں نے یکساں تعلیمی نظام کے نفاذ پر زور دیا جہاں امیر اور غریب کی تخصیص کیے بنا برابری کی سطح پر تعلیم دی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں طالبات کا گریجویٹ ہونا ثابت کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ خواتین کے آگے بڑھنے کو قبول کر رہاہے۔

اس موقع پر پرنسپل کالج پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مبارکباد دی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کالج کی درخشاں روایات اور ان کی بحالی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کالج کی معاشرے کیلئے خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ کہ کالج نے پاکستان اور پاکستانی معاشرے کی ترقی کیلئے بہترین طلبہ و طالبات دیے ہیں۔ انہوں کانووکیشن کی تیاری اور اسے کامیاب بنانے والے تدریسی اور غیر تدریسی سٹاف کا بھی شکریہ بھی ادا کیا۔

اس موقع پر ڈی پی آئی کالجز پروفیسر ڈاکٹر عاشق حسین نے اپنے خطاب میں کہاکہ تمام طلبہ و طالبات مبارکباد کے مستحق ہیں اور وہ تمام لوگ بھی جن میں والدین اور اساتذہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس کٹھن منزل کو حاصل کرنے میں ان کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان ملک و قوم کو عظیم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج ساہیوال کا شمار پنجاب کے ان چند کالجز میں ہوتا ہے ،جنہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں بہترین افرادی قوت مہیا کی ہے۔

انہوں نے کالج کیلئے نئی عمارت اور لیبارٹریاں بنانے کا بھی اعلان کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button