زرعی یونیورسٹی ملتان : ماحول دوست زراعت، ماحول کی بحالی کا طریقہ کے موضوع پر 2روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

ملتان ایم این ایس یونیورسٹی میں شعبہ فلاحت کے زیر اہتمام ماحول دوست زراعت،ماحول کی بحالی کا طریقہ کے موضوع پر 2روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔
کانفرنس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت(گرین کلائیمٹ فنڈ) کے تعاون سے منعقد کی گئی۔
بین الاقوامی کانفرنس میں جرمنی،جنوبی کوریا، مصر، لیتھونیا، برطانیہ،ترکی، چین اور پاکستان بھر سے موسمی تبدیلی کے نامور ماہرین نے شرکت کی۔
کانفرنس کی صدارت وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی اور رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی(تمغہ امتیاز) نے کی، جبکہ مہمان اعزاز میں سیکرٹری زراعت ساؤتھ پنجاب ثاقب علی عطیل،ڈاکٹر فاتح بوزدیمر (نمائندہ ادارہ برائے خوراک و زراعت) سید ابن حسین تھے۔
وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس متحرک خطے میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لئے جامعہ زرعیہ ملتان کی کوششیں قابل دید ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کلایمیٹ چینج جیسے مسئلے سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرے گی، اور کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی اور اس کے انسانی صحت، فصلوں کی پیداوار اور پاکستان میں کاشت کاری کے نظام پر پرنے والے اثرات کے مسئلے کو اٹھانے کے لئے بہت واضح اور سنجیدہ ہے۔
موجودہ حکومت نے وذیراعظم”زرعی ایمرجنسی پروگرام”کا آغاز کرتے ہوئے موسم اور موسم کی شدت کے تحت زرعی پیداوار میں کمی سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔
انہوں نے جامعہ کے لئے اپنے اختیار میں موجود تمام وسائل کی غیر مشروط حمایت کا وعدہ کیا اور طلباء پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کی کوششیں حمایت کرنے کے لئے صاف اور سر سبز پاکستان کے سفیر بنیں، وائس چانسلر پروفیسر ڈٓکٹر آصف علی نے کانفرنس کا ایک جامعہ تجزیہ پیش کیا اور اس کانفرنس کے تمام منتظمین اورسپا نسرز کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر تحقیقی کام ہماری اولین ترجیح ہے اور جامعہ زرعیہ ملتان موجودہ صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ کانفرنس اس مسئلے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
انہوں نے ا س سلسلے میں جامعہ میں کئے جانے والے تحقیقی کام اور سماجی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی۔
ثاقب علی عطیل نے مناسب وقت پر قومی اور بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کے ساتھ ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے جامعہ کی کوششوں اور لگن کا اعتراف کیا۔
ڈاکٹر فاتح بزدمیر نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کو متعدد مسائل کا سامنا ہے پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی دو سب سے برے چیلنجز ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان دو وجوہات سے ہونے والے نقصانات بہت ذیادہ ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں موسمیاتی سمارٹ ایگریکلچر کو بلند کرنے کے لئے ایف اے او کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا۔
ایملڈابیر یجینا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کانفرنس جیسے واقعات سائنس دانوں اور کسانوں کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے زراعت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمدا نے امید ظاہر کی یہ کانفرنس ایک بہتر زرعی پالیسی بنانے کی راہ ہموار کرے گی کیونکہ زرعی شعبے کے خطرات اور خطرات کا اندازہ لگانے کے لئے طریقہ کار کا فریم ورک پیش کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے جامعہ زرعیہ ملتان میں موسمیاتی سمارٹ ٹیکنالوجی کا جائزہ پیش کیا، انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس سلسلے میں تحقیقی تعاون، خیالات کا تبادلہ، علم کی منتقلی فائدہ مند ثابت ہو ں گے۔
ڈاکٹر حبیب الرحمٰن اور فہیم احمدایف اے او کے نمائندے نے اس کانفرنس کی سفارشات پیش کیں۔
یہ فیصلہ کیا گیا کے کانفرنس کے نتائج کو مقامی زبانوں میں ایک سیمنا ر کے تحت کاشتکاروں سے بھی شئیر کیا جائے گا ، جس کا عنوان "کسانوں کے لئے سائنس”ہے کیونکہ کسان سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ز ہیں۔اس کانفرنس نے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی اور موسمیاتی سمارٹ زرعی نظام کو اپنانے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔
افتتاحی اور اختتامی سیشنز کے علاوہ 6 تکنیکی موضوعات پر بھی سیشنز منعقد کئے گئے ، جس میں تقریباََ 76 سائنسدانوں نے اپنا تحقیقاتی کام پیش کیا جن میں سے 21مقالہ جات بین الاقوامی سطح پر پیش کئے گئے۔
مقررین نے انٹریشنل کانفرنس میں پاکستان میں موسمیاتی سمارٹ زرعی سسٹم کو اپنانے کے لئے عملی اختراعی حل کی تلاش پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔
انٹرنیشنل کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید،ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر مبشر مہدی ڈاکٹر عبدالغفار،رانا مشتاق احمد، ڈاکٹر محکم حماد ڈاکٹر فہیم نواز،ڈاکٹر عمار مطلوب،ڈاکٹر خرم مبین، ڈاکٹر مقرب علی، ڈاکٹر شاہد اقبال سمیت 350 سے زائدسائنسدانوں،ماہرین تعلیم، محققین، پالیسی ساز، ماہرین زراعت،ترقی پسند کسان، اسٹیک ہولدڑز، اور طلباء طالبات کی کثیر تعداد شامل تھے۔


















