Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

پنجاب تھیسلمیسا اور پروینشن پروگرام کے زیراہتمام سیمینار

ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پنجاب تھیسلمیسا اور پرونیشن پروگرام کے زیراہتمام سیمینار منعقد کیاگیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصو راکبر کنڈی نے کہاکہ وقت کی ضرورت ہے کہ تھیلسیمیا کی روک تھام کی جائے انہو ںنے کہا کہ پاکستان میں تھییلسمیا بیماری کو آگاہی سے روک تھام کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین جعفری ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ تھیلسمیا پروینشن پروگرام کا مقصد ہی یہی ہے کہ تھیلسمیا کیریر فیملیز کو سکرین کیاجائے۔

انہوں نے تھیلسمیا سے بچاؤ کے حوالے سے تفصیل سے طلباء طالبات کو آگاہ کیا ۔

انہوں نے کہاکہ تھیلسمیا ایک ایسی معروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اس کا واحد حل یہی ہے کہ شادی سے پہلے ہر بندہ تھیلسمیا کا ٹیسٹ کروائے تاکہ آنے والے بچے اس موزی مرض سے بچ سکیں۔

ڈاکٹر یاسمین احسان ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہاکہ تھیلسمیاء کے شکار بچے دوسری بیماریوں کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تھیلسمیاء کے مریض بچوں کو خون لگانا بہت ہی ضروری ہوتا ہے اور ادویات بھی ضروری ہوتی ہیں۔

انہو ں نے کہاکہ والدین علاج نہیں کرواپاتے اس کاواحد حل یہی ہے کہ لوگوں میں شعور اجاگر کیا جائے۔

چیئرمین شعبہ سوشیالوجی ڈاکٹر کامران اشفاق نے طلباء طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پوری دنیا جس میں ترکی ، سعودی عرب ، کنیڈا ، امریکہ ، آسٹریلیا جیسے ممالک شامل ہیں، میں اس بیماری کو کنٹرول کرلیا گیا ہے ۔

مگر پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار تھیلسمیا کے بچے پیدا ہوتے ہیں جنہیں بلڈ کے سہارے زندہ رہنا پڑتا ہے۔ واحد حل یہی ہے کہ آگاہی دی جائے۔

آخر میں تمام شرکاء طلباء طالبات نے تھیلسیمیا سکریننگ ٹیسٹ فری کروائے۔

اس موقعہ پر احمد ندیم خالد ریجنل کوآرڈینیٹر پنجاب تھیلیسمیا پروگرام ، ڈاکٹر صائمہ افضل ، ڈاکٹر عمران جمیل کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں طلباء طالبات نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button