پی ٹی آئی ممبران کی خریداری پر ن لیگ میں انتشار، اجلاس ملتوی

ہارس ٹریڈنگ معاملے پر خود ن لیگ میں انتشار پیدا ہوگیا ، کارکنوں کے ردعمل بچنے کیلی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ملتوی کردیا۔
پی ٹی آئی کے ضمیر فروشوں کو خریدنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن اندرونی انتشار کا شکار ہوگئی ہے ، اور کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جسکے باعث ن لیگ کی مرکزی قیادت نے آج ہونیوالا پارٹی کا جنرل کونسل کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔
ذرائع نے بتایا مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے وفاداروں کی جگہ ضمیر فروشوں کو سے ٹکٹ دینے کے وعدے پر ن لیگی اراکین میں تشویش پھیل گئی ہے، اور لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے اس کا کھل کر اظہار کررہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس جو کہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے فارم ہاؤس پر ہونا تھی ، مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ان ہی سوالوں اور کارکنوں کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلیے اجلاس کو ملتوی کردیا ہے، اور اس کی اطلاع متعلقہ رہنماؤں کو بھی دے دی گئی ہے۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کو یہ خوف ہے کہ اجلاس میں اس حوالے سے جو سوالات کیے جائیں گے ان کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سے قبل بھی سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھیوں کو پارٹی میں لینے پر ن لیگ کے دیرینہ کارکنوں نے سوالات اٹھائے تھے تو اب کیسے ممکن تھا کہ اس پر کارکنوں کا کوئی ردعمل نہ آئے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی نے جنرل کونسل اجلاس وکنونشن منسوخ کیا ہے، جس کی اگلی تاریخ کا اعلان بعدمیں کیاجائیگا۔
اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پی ٹی آئی ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کو نواز شریف نے خود آئندہ الیکشن میں ٹکٹ کی گارنٹی دی۔
رانا ثنااللہ نے اس ڈیل میں اہم کردار ادا کیا، تاہم نواب شیر وسیر کو کتنی رقم ادا کی گئی تصدیق نہ ہو سکی۔




















