زکریا یونیورسٹی سلیکشن بورڈ اجلاس : ترقی اور تعیناتی کے فیصلوں پر انگلیاں اٹھ گئیں

زکریایونیورسٹی کاسلیکشن بورڈ اجلاس ،دوسرے روز ہونے والی ترقیوں اورتعیناتی پرسوال اٹھ گئے۔
ممبر سینڈیکٹ کے شوہر تعیناتی کے سامنے ڈین بے بس ، ایڈمنسٹریشن کے افسروں کی ترقیاں سیاست کی نظر ہوگئیں ۔
تفصیل کے مطابق بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں دوسرے دن جاری رہنے والے سلیکشن بورڈ اجلاس میں متعدد آسامیوں پر امیدواروں کے انٹرویوز لیے گئے۔
سال ہاسال سے خدمات انجام دینے والےپی ایچ ڈی لیکچررز کو ترقیوں سے محروم رکھا گیا ، تاہم ممبر سنڈیکیٹ جویریہ عباس کے شوہر ڈاکٹر ابو بکر کو اسکول آف اکنامکس میں 19 گریڈ پر اسسٹنٹ پروفیسر آف مینجمنٹ اینڈ فنانس تعینات کر دیا گیا، حالانکہ اس معاملے پر ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر شوکت ملک تحریری طور پر تحفظات کا اظہار کر چکے تھے۔
انکا موقف تھا کہ یہ تعیناتی ان کے شعبے سے متعلقہ ہے لیکن انھیں اس معاملے سے باہر رکھا گیا۔
ایک ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بورڈ فیصلے میں میں ڈاکٹر ابوبکر کو کو وییٹنگ لسٹ میں رکھا گیا تھا، لیکن بعد ازاں فیصلہ تبدیل کرکے ڈاکٹر ابوبکر کی تعیناتی کے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔
اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر احمد کریم جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بطور لیکچرار خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اور ملائشیا سے پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی کر چکے ہیں ،انہیں شعبہ کی اندرونی سیاست کی بھینٹ چڑھا کر اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی پر ترقی سے محروم رکھا گیا۔
اسی طرح ایگریکلچر انجینئرنگ کے ڈاکٹر حامد کو کو بھی ترقی سے محروم رکھا گیا ، حالانکہ بجٹ میں سیٹ موجود تھی۔
شعبہ انگریزی میں ڈاکٹر شزرہ سلام کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی کی سفارش کی گئی۔
شعبہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈاکٹر عظمت حسین کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی کی سفارش کی گئی۔
شعبہ مکینیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹر نوید حسنین کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی کی سفارش کی گئی۔
شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈاکٹر عادل بشیر کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی کی سفارش کی گئی۔
شعبہ سول انجینئرنگ میں انجینئر حافظ خرم حسنین بخاری، انجینئر محمد ندیم، انجینئر محمد نور، اور انجینئر ماریہ کی بطور لیکچرار تعیناتیوں کی سفارش کی گئی۔
شعبہ پبلک ایڈ منسٹریشن میں ڈاکٹر زرمینہ اور ڈاکٹر خرم کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتیوں کی سفارش کی گئی۔
شعبہ فارماسیوٹیکل کیمسٹری میں ڈاکٹر فرحان صدیق جبکہ فارمیسی پریکٹس میں ڈاکٹر ماجد عزیز اور ڈاکٹر سلمان عزیز کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتیوں کی سفارش کی گئی۔
شعبہ فائن آرٹس میں مس شگفتہ ریاض کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی کی سفارش کی گئی، جبکہ شعبہ ایگری بزنس میں ڈاکٹر شعیب اور ڈاکٹر اسد کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتیوں کی سفارش کی گئی۔
اسی طرح متعدد شعبہ جات میں اسکالرشپ پر پی ایچ ڈی کے بعد معاہدے کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی عمل میں لائی گئی۔
ایڈمنسٹریشن میں ہونے والے ترقی کےکیسز میں جسٹس کی نشاندہی پررجسٹرار کے ساتھ دوسرے کیس بھی ملتوی کردئے گئے ۔
ذرائع کاکہناہے کہ رجسٹرارکے کیس پر جسٹس نے اعتراض اٹھایا تو جواب دیا کہ اس پر لیگل رائے لے لی گئی ہے ، جس پر ان کا کیس اوکے کردیا گیا۔
تاہم بعد ایڈمن آفیسرز کاکیس رکھا گیا ، جس پر سیکرٹری نے کہا کہ ان پرانٹی کرپشن کا مقدمہ ہے۔
مگر جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اپ اپنے کیس پر لیگل رائے لے سکتے ہیں تو ان کے کیسز پر کیوں نہیں لے سکتے اس لئے جب تک ان کے بارے میں لیگل رائے نہیں آجاتی اپ کو کیس بھی نہیں ہوگا ،جس کے بعد انہوں نے تمام کیس آئندہ اجلاس تک ملتوی کردئے ۔
اسی طرح ایڈیشنل رجسٹرار کیس بھی ملتوی کر دئےگئے۔
دوسری طرف یونیورسٹی ٹیچر فوم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر منصور اکبر کنڈی کی صدارت میں ہونے والے حالیہ سلیکشن بورڈ میں یو ٹی ایف نے میرٹ پراساتذہ کرام کی ترقیاں کراکر یونیورسٹی اساتذہ کے حقدار اساتذہ سے وعدے وفا کردیے۔
وائس چانسلر نے میرٹ کا بول بالا کردیا۔
جبکہ ذاکٹر عبدالستار ملک کو پروفیسر آف الیکٹریکل انجینئرنگ بنانے کی سفارش کی گئی، تاہم ان کی ترقی اور تعیناتی عدالتی فیصلے سے مشروط کردی گئی ۔
سابقہ صدر اے ایس اے ڈاکٹر عبدالستار ملک اور ان کے گروپ بزوٹا نے اس عدالتی فیصلے کو پسند نہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سیرت فاطمہ کی آئی بی ایف ، اور ڈاکٹر جیند ظفر کی کامرس ڈیپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تعیناتی کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے اثر رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ترقیاں رکوا دیں ۔
اب یہ اسامیاں دوبارہ مشتہر کی جائیں گی ۔
یو ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض، جنرل سیکرٹری ارسلان صدیقی۔ ڈاکٹر سعید اختر اور پروفیسر ڈاکٹر آصف یسن نے مذکورہ متاثر اساتذہ کو انصاف کی یقین دہائی کرائی۔
اے ایس اے کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی۔ اور یوٹی ایف کے صدر ڈاکٹر سعید اختر اورسیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر آصف یسن نے مذکورہ متاثر اساتذہ کو انصاف کی یقین دہائی کرائی اور ترقی پانے والے اساتذہ کو مبارکباد دی۔
بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ اور وائس چانسلر منصور اکبر کنڈی نے اے ایس اے اور یوٹی ایف کی کاوشوں کو خوب سراہا ہے ۔


















