بصارت سے محرومی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ امجد اسلام امجد

نامور شاعر امجد اسلام امجد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہدہ رسول ایک باہمت اور حوصلہ مند لکھاری اور استاد ہیں، جنہوں نے بصارت سے محرومی کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
ایسی بچیاں پاکستان کامستقبل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر شاہدہ رسول نے میری ٹی وی ڈراموں پر جو تحقیقی کام کیا، وہ بہت منفرد اور حیران کردینے والا ہے ۔
وہ ڈراموں کے کئی ایسے پہلو سامنے لائیں جواس سے پہلے ناقدین کی نظر میں نہیں آئے تھے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز خواتین یونیورسٹی ملتان میں شعبہ اردو کی سربراہ ڈاکٹر شاہدہ رسول کی نئی کتاب ”وارث سے بندگی تک“ کی تعارفی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔
یہ کتاب امجد اسلام امجد کے ڈراموں کے سماجی و سیاسی مطالعے پرمشتمل ہے۔
تقریب کے مہمان خصوصی معروف شاعر شوکت فہمی تھے۔
اس موقع پر رضی الدین رضی، شاکرحسین شاکر، آصف خان کھیتران، اسرارچوہدری، قیصر عباس صابر، پروفیسر نگہت افتخار، ڈاکٹر عذرا لیاقت، ڈاکٹر عصمت جمیل نے بھی خطاب کیا جبکہ پروفیسر سدرہ جمیل نے ڈاکٹر انوار احمد کامضمون پیش کیا۔
مقررین نے کہاکہ ڈاکٹر شاہدہ رسول نے امجد اسلام امجد کے ڈراموں کے نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
امجد اسلام امجد بلاشبہ عہد ساز شخصیت ہیں۔ امجد اسلام امجد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں وارث اور دیگر ڈراموں کے ذریعے محروم طبقے کی آواز بنا۔
وارث پہلا ڈرامہ جس نے جاگیرداروں اوروڈیروں کے مظالم کو آشکار کیا اور یہی اس ڈرامے کی مقبولیت کی بنیادی وجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ میرے بارے میں عام تاثر یہ رہا کہ میرے ڈراموں کے مردانہ کردار زیادہ مضبوط ہیں۔
ڈاکٹر شاہدہ رسول نے اس کتاب میں نسائی کرداروں کی اہمیت کو بھی نئے زاویوں سے اجاگر کیا۔
تقریب میں اساتذہ اورطالبات سمیت سٹاف کی بڑی تعداد موجود تھی۔



















