نیورو سرجن ڈاکٹر ہمایوں محسن پر تشدد ، ڈاکٹروں نے احتجاج کا اعلان کردیا

مایہ ناز نیورو سرجن ڈاکٹر ہمایوں محسن کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے، ملزمان کی ڈاکٹر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں،ڈاکٹرز کیمونٹی نے ملزمان کی گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا ملنے تک احتجاج کا اعلان کر دیا۔
بتایا جاتا ہے کہ نشتر ہسپتال شعبہ آؤٹ ڈور نیورو کے انچارج ڈاکٹر ہمایوں محسن پیر کے روز صبح تھانہ چہلیک کے علاقہ گلشن کریم کالونی سے نشتر ہسپتال اپنی ڈیوٹی پر آرہے تھے کہ گلی کے کارنر پر موٹر سائیکل سوار دودھ والا موجود تھا۔
ڈاکٹر ہمایوں محسن نے اسے موٹر سائیکل سائیڈ پر کرنے کو کہا اس نے موٹر سائیکل سائیڈ پر کرنیکی بجائے موٹر سائیکل کوجان بوجھ کرموٹر سائیکل گاڑی کو ٹکرادی، جسکے نتیجہ میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ہمایوں محسن نے گاڑی سے اتر کر مذکورہ موٹر سائیکل سوار سے بات کرنیکی کوشش کی، تو اس نے گالم گلوچ شروع کردیی، اسی دوران اس نے اپنے دیگر ساتھیوں شکیل کمبوہ وغیرہ کو بلوا لیا جنہوں نے ڈاکٹر ہمایوں محسن کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے، اور ناک کی ہڈی بھی فریکچر ہوگئی۔
راہگیروں نے موقع پر پہنچ کر ڈاکٹر ہمایوں محسن کی جان بخشی کروائی ۔
بتایا جاتا ہے کہ چہلیک پولیس نے ڈاکٹر ہمایوں محسن کی مدعیت میں ملزمان شکیل کمبوہ وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، لیکن ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے ہیں۔
جبکہ وہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ،ملزمان کا کہنا ہے کہ وہ نشتر روڈ کے بدمعاش ہیں اور تم ہمارے خلاف کارروائی کرنے کے بعد یہاں سے گزر نہیں سکو گے ۔
جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان پر پہلے بھی اس قسم کے کئی واقعات میں ملوث ہیں، اور انہوں نے اہل علاقہ کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔
ڈاکٹر تنظیموں نے وزیر اعلی پنجاب ، آئی جی پولیس پنجاب ،کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب، آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان سے ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنیکا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر ڈاکٹرز کیمونٹی شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیگی ۔
جسکی تمام تر زمہ داری ملتان انتظامیہ پر ہوگی۔



















