Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

ترقیاتی منصوبے نواب مظفر خان سدوزئی شہید(سابق حاکم ملتان) کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ

ملتان میں زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں نشتر ٹو، مدر اینڈ چائلڈ کئیر ہسپتال، نادر آباد فلائی اوور یا مدنی پارک فلائی اوور مین سے کسی ایک کو نواب مظفر خان سدوزئی شہید(سابق حاکم ملتان) کے نام سے منسوب کیا جائے۔ نواب شجاع خان سدوزئی اور نواب مظفر خان سدوزئی شہید(سابق حاکم ملتان) کی یادگاروں کو محفوظ بنایا جائے۔نواب مظفر خان سدوزئی شہید (سابق حاکم ملتان)کی قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیئے۔

نواب مظفر خان سدوزئی شہید (سابق حاکم مُلتان) جس نے 1779ء؁ سے 1818ء؁ تک ملتان پر حکمرانی کرتے ہوئے عوامی خدمت کی ایسی مثالیں قائم کی جن کی تاریخ میں کوئی مثال دستیاب نہیں۔ آج اسی نواب مظفر خان سدوزئی کے شجاع آباد اور مظفر گڑھ میں رہائشی محل و قلعہ کی حالت زار قابل رحم ہے۔ بحیثیت قوم ہم اپنے اسلاف کی نشانیوں کی حفاظت نہیں کرسکتے اور اس سلسلے میں حکومت کا کردار بھی انتہائی شرمناک ہے۔مہذب و تعلیم یافتہ اقوام اپنے اسلاف کی یادگاروں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن ہم ان یادگاروں کو تباہ کر چکے ہیں۔ یہ وہ یادگاریں ہیں جن کی دیکھ بھال کر کے ہم سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن ہم ایسا کچھ بھی نہیں کررہے۔

ان خیالات کا اظہار روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ملتان کے چئیرمین میجر (ر) مُجیب احمد خان و دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں ڈاکٹر فاروق لنگاہ، ایم احسان خان سدوزئی، جواد امین قریشی اور عرفان الحق حقانی نے اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسو تین سال قبل دوجون 1818ء؁ کو رنجیت سنگھ نے ظلم و بربریت کے ذریعے سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی کے تخت کو تاراج کرتے ہوئے ملتان کو تباہ و برباد کیا، اسکے اثرات آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ خطہ کے لوگ آج بھی بنیادی ضروریات ِ زندگی سے محروم پسماندہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطہ عوام کو تمام بنیادی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اسی خطہ سے لوگ منتخب ہوکر اقتدار کے اعلی ترین ایوانوں میں پہنچے لیکن بدقسمتی سے اقتدار ھاصل کرنے والے تو خوشحال ہوگئے اور عوام بدحالی کے کنارے سے جالگی ہے۔ دوجون 2021کو 203واں یوم سقوط ملتان کے موقع پر ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ
٭ ملتان میں زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں مدر اینڈ چائلڈ کئیر ہسپتال، نشتر ii، نادر آباد فلائی اوور یا مدنی پارک فلائی اوور کو نواب مظفر خان سدوزئی شہید(سابق حاکم ملتان) کے نام سے منسوب کیا جائے۔

٭ سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی شہیدکی جائے پیدائش و رہائش گاہ (جہاں اب کارڈیالوجی سنٹر ابدالی روڈ ملتان) قائم کیا گیا ہے، اس کا نام سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید کے نام پر سابق ”نواب مظفر خان سدوزئی شہید انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان رکھا جائے یا پھر کارڈیالوجی سنٹر میں موجود 4 دروازوں میں سے کسی ایک کو سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید سے منسوب کیا جائے۔ کارڈیالوجی ہسپتال کا فیز iiنواب مظفر کی رہائش گاہ شیش محل پر بنایا جارہا ہے۔

٭ شجاع آباد اور مظفر گڑھ میں واقع دونوں قلعوں کو آثار قدیمہ محکمہ اپنی تحویل میں لے اور انہیں اصلی حالت میں آباد کرے۔ ان قلعوں کی آباد کاری سے نہ صرف سیر و سیاحت میں اضافہ کیساتھ ساتھ علاقائی ترقی و خوشحالی ممکن ہوگی۔

٭ مظفر گڑھ میں واقع تلیری باغ و نہر کو محفوظ کیا جائے اوراسے سیاحتی مقام قرار دیا جائے۔ یہاں پر موجود نہر و کھجور کا دلکش باغ آج بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے اور یہی وجہ ہے کہ مظفر گڑھ کی ضلعی انتظامیہ و دیگر اعلی حکومتی افسران کی رہائشاگاہیں یہاں بنائی جا رہی ہیں۔

٭ شجاع آباد میں موجود نواب شجاع خان سدوزئی کے مزار کی خستہ حالی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور ویرانگی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سکھوں کی گولیوں کے نشانات آج بھی مزار پر موجود ہے۔ اس مزار کو فی الفور از سر نو تعمیر کر کے قومی ورثہ قرار دیا جائے۔ شجاع آباد میں موجود قلعہ اور اس کی فصیل پر ناجائز تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کر کے کو بحال کی جائے۔

٭ سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید کی قبر انور بہاوالحق زکریا ؒ کے مزار میں مرکزی دروازے کے باہر موجود ہے۔ اس قبر کو الگ نشانی بناتے ہوئے اس پر مزار کی تعمیر کی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button