عمران خان کو سرائیکی خطے کے بھاری مینڈیٹ کا بھرم نہ رکھنےکی سزا مل رہی ہے:حانیہ خان

حکمران پہلے دن سے صوبے کے وعدے سے منحرف تھے۔ وسیب کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے ڈھونگ رچائے گئے آج سزا بھگت رہے ہیں۔ عمران خان کو سرائیکی خطے کے بھاری مینڈیٹ کا بھرم نہ رکھنے اور صوبہ نہ بنانے کی سزا مل رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار چیف کوآرڈی نیٹر سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی حانیہ خان اور ڈپٹی کوآرڈی ایس ڈی پی نیٹر صائمہ خان نے مشترکہ بیان میں کیا۔
حانیہ خان نے کہا کہ اقتدار کی جنگ میں حکمران سرائیکی صوبہ بھول گئے ، عمران خان صوبے کا وعدہ پورا کر کے جائیں ورنہ پورے وسیب میں احتجاج کریں گے۔ اب حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے تو دکھاوے کے طور پر قومی اسمبلی میں صوبے کا آئینی ترمیمی بل پیش کیا، مگر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بل پر بحث کرانے کی بجائے اجلاس ملتوی کر دیا، جس سے حکومت کے غیر سنجیدہ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
عمران خان کو سرائیکی صوبے کا وعدہ وفا نہ کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ آج سرائیکی صوبہ ہوتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
سرائیکی وسیب کے لوگ خیرات نہیں اپنا حق مانگتے ہیں۔پنجاب کا بہت بڑا حجم ہی سیاسی بحران کی اصل وجہ ہے ۔ 62 فیصد آبادی کا ایک صوبہ اور 38فیصد آبادی کے تین صوبے وفاق کے عدم تواز ن کی بد ترین مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے سرائیکی صوبے کے نام پر وسیب سے مینڈیٹ حاصل کیا ، مگر ساڑھے تین سال سرائیکی وسیب کے کروڑوں افراد کو لولی پاپ کے سوا کچھ نہ ملا۔
سرائیکی وسیب کی تہذیبی شناخت کو مسخ کیا گیا اور سرائیکی وسیب کی جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کیا گیا جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں اور کسی بھی صورت میں حکمرانوں کا یہ جرم معاف نہیں کریں گے ۔
صائمہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ پیپلز پارٹی ، (ن) لیگ پر بھی لازم ہے کہ وہ صوبہ سرائیکستان کے بل کی حمایت کریں کہ انہوں نے بھی اپنے پارٹی منشور میں صوبے کا وعدہ کر رکھا ہے اور صوبے کے نام پر دو مرتبہ مینڈیٹ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
سرائیکی قوم سے بنگالیوں والا سلوک بند کیا جائے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ الگ ملک نہیں بلکہ آئین پاکستان اور وفاق پاکستان کے اندر رہتے ہوئے صوبہ مانگ رہے ہیں۔

















