پاکستان کی بین الاقوامی پالیسی ابتدائی ادوار کے عنوان سے لیکچر

ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے زیراہتمام پاکستان کی بین الاقوامی پالیسی ابتدائی ادوار کے عنوان سے لیکچر منعقد کیاگیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی ، نامور ماہرین بین الاقوامی امور نے سیاسیات اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے طلباء طالبات کو پاکستان کے قومی مفاد اور پاکستان کی پالیسی کے متصینات و متبادلات سے روشناس کروایا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے تاریخ کو دلچسپ پیرائے میں بیان کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ پاکستان کو روس نے دورہ کا دعوت نامہ دیا تھا۔
اگرچہ اس زمانے میں سٹالن کی قیادت میں سووویت یونین بہت سے ملکوں کی اقوام متحدہ رکنیت کو ویٹو کررہا تھا، لیکن اس نے نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت سفیر کے طور پرتعینات رہیں۔
لیکن سٹالن نے اس سے کبھی ملاقات نہیں کی اور نہ نہرو کو دعوت نامہ بھیجا ۔
پاکستان نے نامعلوم وجوات کی بنیاد پر سوویت یونین کی دعوت کے باوجود وزیراعظم لیاقت علی خان کا دورہ سوویت یونین منعقد نہیں کیا ، اور پاکستان کے وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے پاکستان نیوٹرل پوزیشن سے منحرف ہو کر امریکہ کا اتحادی بن گیا۔
پاکستان سوویت یونین اتحاد کے کیا نتائج نکلتے اس پر محض قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے۔
بہرحال یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب پاکستان امریکی بلاک کا حصہ بن گیا۔
سیمینار کے شرکاء میں پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر ، ڈاکٹر رفیدہ نواز ، ڈاکٹر زرمینہ تسلیم ، میڈم ثوبیہ ریاض اور میڈم انعم ریاض شامل تھے۔


















