10 ہزار جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کےلئے آپریش البدر کا آغاز

جنوبی پنجاب میں جرائم کی بڑھتی صورتحال کو لگام دینے کی غرض سے10000جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لیے آپریشن البدر کا آغاز کر دیا گیا ۔
عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 10000 جرائم پیشہ افراد جو گزشتہ پانچ برس میں ڈکیتی اور راہزنی میں ملوث رہے، کے خلاف کاروائی کے لیے 210 تھانوں کی پولیس متحرک ہو گئی ۔
پنجاب پولیس کی تاریخ میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف یہ سب سے بڑا آپریشن ہے آپریشن کے دوران جرائم پیشہ افراد کے ضامنوں اور ایسے افراد کو تحفظ فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق ملتان ریجن میں4000 بہاولپور ریجن میں3500 اور ڈیرہ غازی خان ریجن میں 2500 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے آپریشن البدر میں سپیشل برانچ سی ٹی ڈی اور سی آئی اے بھی شامل ہے۔
آپریشن کی کامیابی کے لیے حساس اداروں کی معاونت پولیس کو حاصل رہے گی، آپریشن کی کامیابی کے لیے جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کی پولیس کے باہمی روابط اور انفارمیشن سسٹم کو انتہائی مؤثر بنایا گیا۔
اس مقصد کے لیے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب کے دفتر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
اور تمام تھانوں کو ہدایات کی ہیں کہ غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب کیا جائے اور بین الصوبائی بارڈرز کی نگرانی کو سخت کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے



















