"مرکز ترجمہ کاری اور بین الثقافتی مطالعات” کے قیام کا عزم لئے اردو کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی

زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جاری انٹرنیشنل کانفرنس اختتام پذیز ہوگئی دو روزہ آن لائن کانفرنس(ترجمہ اور بین الثقافتی مطالعات) کے دوسرے روز بھی پانچ سیشن ہوئے۔
پہلے اور مجموعی طور پر چھٹے سیشن کی صدارت حفیظ خان، جمیل پال اور ڈاکٹر ممتاز کلیانی نے کی۔ یہ سیشن ” اردو اور مقامی زبانوں کے باہمی تراجم: روایت اور اہمیت” کے عنوان سے تھا۔
پٹیالہ انڈیا سے معروف مترجم سورن جیت کور نے مقامی زبانوں کے باہمی تراجم کی ضرورت، اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے مقامی زبانوں کو فروغ ہوگا۔
کنیڈا سے سربجیت سنگھ اروڑا نے کہا کہ ترجمہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بھی اہم ٹول ہے اور اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجمہ کی رسمی تعلیم کو فروغ دینا ضروری ہے، پنجابی کے معروف ادیب اعجاز نے پنجابی زبان میں ہونے والے تراجم اور روایت پر بات کی۔
زاہد حسن نے پنجابی تراجم کے ارتقا پر روشنی ڈالی۔ عبدالباسط بھٹی نے عالمی فکشن کے سرائیکی تراجم کا احاطہ کیا۔کانفرنس کا ساتواں سیشن ” لفظی، تخلیقی اور مشینی ترجمہ: مسائل و مباحث” کے حوالے سے تھا جس میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز برطانیہ کی سریندر کور جگ پال، حافظ صفوان محمد چوہان، ڈاکٹر صفدر رشید، عاصم بخشی، سید کاشف رضا اور مہاراشٹر انڈیا سے خان محمد عاقب نے اپنی گفتگو میں مشینی ترجمے کی ضرورت اور اہمیت کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی۔
آٹھواں سیشن ” تراجم کی جامعاتی تدریس اور ترویج و اشاعت” کے لیے مخصوص کیا گیا۔ اس سیشن میں تراجم کے مختلف اداروں کی کارکردگی، مسائل اور تجاویز کے بارے میں بات کی۔ اس سیشن میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر یوسف خشک، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، حورانی نورانی، فرخ سہیل گوئیندیز ڈاکٹر غلام علی اور ڈاکٹر شیر علی خان نے تفصیلی گفتگو کی اور کتاب کلچر اور بالخصوص تراجم کے ذریعے پاکستان میں سائنسی علوم اور روشن خیالی کی ترویج کا احاطہ کیا۔
کانفرنس کا نواں سیشن "ترجمہ: نظری، اطلاقی اور تقابلی مطالعات” کے بارے میں تھا۔ اس سیشن میں ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، سیالکوٹ سے ڈاکٹر افضال بٹ، ڈاکٹر عامر سہیل اور ڈاکٹر شیر علی خان نے ترجمے کے نظری مباحث اور اس کے اطلاقی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
اختتامی سیشن میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی، ڈنمارک سے نصر ملک اور پاکستان سے ڈاکٹر انوار احمد، حفیظ خان، ناصر عباس نئیر اور ڈاکٹر سید عامر سہیل نے کانفرنس کی کامیابی پر مبارک باد دی اور مختلف تجاویز دیں۔
چیئرمین شعبہ اردو ڈاکٹر ممتاز کلیانی نے سفارشات پیش کیں جن میں "مرکز ترجمہ کاری اور بین الثقافتی مطالعات” کے قیام، اس کے زیر اہتمام ریسرچ جرنل کے اجرا، انٹرمیڈیٹ کلاسز سے ترجمہ کے حوالے سے نصاب میں شمولیت اور ترکی، ایران، مصر، جاپان سمیت دوسرے کئی ممالک کی یونیورسٹیوں میں موجود شعبہ جات اردو کے ساتھ بی زیڈ یو شعبہ اردو کے ایم او یو سائن کرنے یا تجدید کرنے سمیت دیگر سفارشات شامل تھیں۔
کانفرنس کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد خاور نوازش نے کانفرنس کے اختتام پرکہا کہ اس کانفرنس میں پیش کیے گئے تمام مقالات جلد از جلد کتابی صورت میں بھی شائع کیے جائیں گے۔
دو دن جاری رہنے والی اس کانفرنس میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک، مصر، ایران، ترکی اور انڈیا سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے نوے اسکالرز نے شرکت کی۔


















