Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زرعی یونیورسٹی میں ورلڈ انوائرمنٹ ڈے منایا گیا

ایم این ایس زرعی نیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف سوئل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے زیر اہتمام ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کے حوالے سے سمینار کا انعقاد کیا گیا ۔

ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں ماحولیاتی بچاؤ اور تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لیے تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ۔

زرعی جامعہ ملتان میں سیمینار کے علاوہ پوسٹرز اور ماڈل کے مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا ۔

اس موقع پر کوآرڈینیٹر سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تمام ایام کی بہت اہمیت ہے اور جیسا کہ ہماری زندگی بالواسطہ اور بلاواسطہ ماحول سے جڑی ہوئی ہے اس لیے ہمیں ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی پوری تگ و دو کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماحول کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا ہے لیکن ہمارے پاس نوجوان نسل ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہر قسم کے مسائل کو حل کرنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں ۔ایسے ماحول میں انٹرپرینیورشپ پے بھی توجہ کی ضرورت ہے جو نہ صرف ذرائع معاش فراہم کرتی ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔

اس موقع پر انہوں نے ڈیپارٹمنٹ آفس سوئل انوارمنٹل سائنسز کی کاوشوں کو سراہا، اور ماحول کے تحفظ کے لیے جامعہ زرعیہ ملتان میں جاری پروجیکٹس کا اعادہ کیا ۔

چیئرمین شعبہ انوائرنمنٹل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تنویر الحق نے کہا کہ اس سال ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کا تھیم (only one earth) ہے جس کا مطلب ہے کہ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس دنیا کے علاوہ ہمارے پاس رہنے کے لئے اور کوئی جگہ نہیں ہے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیپارٹمنٹ آف سوایل اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز نے کریکولم میں ایسے تمام ایام کی ضرورت اور اہمیت کو شامل کیا ہوا ہے ۔

مزید برآں انھوں نے یونیورسٹی ویسٹ مینجمنٹ ،کمپوٹنگ سائٹ،ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ،اور شجر کاری سے متعلق منصوبوں کے بارے میں بتایا ۔اور یونیورسٹی کی گرین میٹرک ورلڈ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنے کے پیچھے پہلے بتائے گئے منصوبوں کا ذکر بھی کیا ۔

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد داؤد نے ورلڈ انوائرمنٹ کے حوالے سے سیر حاصل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جارہے ہیں ایسے ہی اس کے اثرات ماحول پر خطرناک ثابت ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں اپنے طور طریقے کو بدلتے ہوئے ماحول کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے زندگی کے تمام معاملات کو دیکھنا چاہئے ۔

مزید بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے وہ ممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسز کی ایمشنز کم ہے ۔

اس لئے ترقی یافتہ ممالک کو اس کوشش کو لیڈ کرنا چاہیے جب کہ ہر شخص کو انفرادی طور پر بھی ماحول کے مسائل کے حل کے لئے کوشش کرنی چاہیے ۔

کامسیٹس یونیورسٹی وہاڑی کیمپس کے ڈاکٹر محمد طاہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر 24 گھنٹے میں دنیا میں 364000 بچوں کا جنم ہورہا ہے ،اگر اسی سپیڈ سے آبادی بڑھتی رہی تو ہمیں ایک کی بجائے 5 دنیا کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے خصوصی طور پر زمین کی آلودگی کے بارے میں ذکر کیا اور بتایا کے کیسے اگر ہم نے اپنی ذات کو ٹھیک نہ کیا اور اس کے اندر بہت زیادہ استعمال ہونے والے ایگروکیمیکل کو کم نہ کیا تو ہمارا ماحول بربادی کے قریب پہنچ جائے گا ۔

آخر میں انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مصباح الحق لودھی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور کی بی آر بی کنال اور ملتان کی نہروں میں زمین آسمان کا فرق ہے، اور یہاں بھی ہم سب کو مل کر ماحول کی آلودگی کو کم کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے ۔

مزید بتایا کہ ان کو آئے ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے لیکن انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے جامعہ زرعیہ کی کاوشوں کے بارے میں بہت سنا ہے ۔آج عملی طور پر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔انہوں نے مل جل کر ماحول کے لئے پروجیکٹ کرنے کا بھی عندیہ دیا ۔

پروگرام کے آخر میں ماڈل اور پوسٹر کمپیٹیشن کے شرکاء میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔آخر میں ڈاکٹر باقر حسین نے تمام معزز شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی تمغہ امتیاز کے وژن کا بھی اعادہ کیا کہ ان کے وژن اور گائیڈ لائن کے مطابق ہمیشہ انڈسٹری فارمرز کمیونٹی اور گورنمنٹ اداروں کے ساتھ مل کر پروجیکٹ پر زور دے رہے ہیں ۔جن کی بدولت جامعہ زرعیہ ملتان کی ماحول کی تحفظ کی کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے ۔

اس موقع پر ڈاکٹر محمد عمران ،ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر وزیر احمد ،ڈاکٹر احمد محمود سمیت دیگر فیکلٹی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button