ویمن یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع بارے سیمینار
ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ بائیو کیمسٹری اور بائیوٹیکنالوجی کے زیر اہتمام حیاتیاتی تنوع بارے آن لائن سیمینار کا انعقاد کیاگیا، جس کی میزبان وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی تھیں۔
اس سیمینار کا انعقاد ڈاکٹر مریم زین ( چیئرپرسن شعبہ بائیوکیمسٹری اور بائیوٹیکنالوجی) نے کیا ، جبکہ واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ آف پلانٹ پیتھالوجی سے ڈاکٹر حرا کمال پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ ایسوسی ایٹ نے خصوصی شرکت کی۔
سیمینار میں ڈاکٹر صبا ظفر استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی، اور بائیو ڈائیورسٹی ڈےکے سلسلے میں منعقد کئے گئے
سیمینار کی اہمیت بارے خطاب کیا، ڈاکٹر حرا کمال نے حیاتیاتی تنوع کی مختلف اقسام پر روشنی ڈالی، اور حیاتیاتی تنوع کو لاحق خطرات پر روشنی ڈالی ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کا دن منانے کے پیچھے یو این او کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دنیا کے تمام لوگوں کو حیاتیاتی تنوع کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاکہ دنیا کی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھا جاسکے اور اس کی حفاظت کی جاسکے۔
مختلف قسم کے جانور، پرندے اور پودے ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جن کی زندگی کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔
صحیح معنوں میں حیاتیاتی تنوع کی فراوانی زمین کو رہنے اور رہنے والوں کے لیے موزوں بناتی ہے لیکن یہ ستم ظریفی ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی جیسے عفریت کے ماحول پر اس قدر خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ حیوانات اور نباتات کی بہت سی انواع آہستہ آہستہ معدوم ہو رہی ہیں۔
جدید دور میں حیاتیاتی تنوع کے موضوع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ماحولیات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
اس کے لیے ماحولیاتی تحفظ پر زور دیا جا رہا ہےاقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے پودے، جانور، مکھیاں اور کیڑے مکوڑے جو انسانی خوراک پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہ زوال کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’اگر پودوں، جانوروں اور ننھی حیات کی ایسی اہم اقسام ختم ہو جاتی ہیں، تو اس سے ہماری خوراک کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘
حیاتیاتی تنوع یا بائیو ڈائیورسٹی میں اس کمی کی وجوہات میں زمین کا بدلتا ہوا استعمال، آلودگی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔
ہمیں ملکر ان مسائل پر قابو پانا ہوگا۔
بعد از ں تمام شرکاء کو سرٹیفکیٹ دئے گئے۔



















