ملک عزیز سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں پاکستان سے ہی ہماری پہچان ہے:ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی

بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے کہا ہے کہ ملک عزیز سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، پاکستان سے ہی ہماری پہچان ہے اور اس ملک کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے ۔
گیلانی لاء کالج میں ڈاکٹر ضیاء الحق کی تصنیف ’ بیانیہ کے ذریعہ امن کا فروغ اور اجتماعیت کی طرف پیش قدمی ‘‘کے عنوان پر لکھی گئی کتاب کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے مزیدکہا کہ کتاب علم کا خزانہ ہے، اور ہر طالب علم و استاد کا یہ خاصہ ہوناچاہیے کہ وہ کتابوں سے محبت کریں اور علم کی شمعوں کو روشن کریں۔
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر محمد ضیاء الحق پیغام پاکستان کے ذریعے بیانیہ کے ذریعہ امن کا پیغام اور تمام مذاہب کو ساتھ لے کر چلنا کی طرف پیش قدمی پر جس خوبصورتی سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، وہ ناقابل بیان ہے۔
انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل پاکستان کی قربانیوں اور پیغام پاکستان کے موضوع پر تحریر کردہ کتاب کے خیالات سے ضرور روشناس ہوں اور اپنے ملک ، علم ، زبان سے پیار کریں ۔
انہو ںنے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کے ناریٹو کو تین چیزوں نے دھچکا پہنچایاہے جس میں عدم اعتماد ، حلا ل و حرام کی تمیز کا خاتمہ اور کرپشن کا عروج شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل آبائو اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور پیغام پاکستان کو عام کرتے ہوئے اس ملک کی حفاظت کریں اور اپنا مستقبل روشن کریں۔چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے کہاکہ بیانیہ کی تعمیر کے لیے یہ کتاب ایک اچھی کاوش ہے اور ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے جس طرح گزشتہ چار سال میں پیغام پاکستان کو پھیلانے کی کوشش کی ہے وہ بھی خوبصورت کوشش ہے۔۔
انہو ںنے کہا کہ کتاب میں امن غیرمسلموں کی تفریق کو ختم کرنے اور نوجوانوں میں امن کے پیغام کے فروغ پر زور دیاگیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ نوجوان قوم کو تقسیم ہونے سے بچائیں اور محبت اور امن کا پیغا م عام کریں۔
ڈین پروفیسرڈاکٹرحکومت علی ، پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر ، ڈاکٹر سمزہ فاطمہ نے خطاب کرتے ہوئے صاحب کتاب کی کاوش کو سراہا۔
ڈائریکٹرجنرل اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر محمد ضیاء الحق و صاحب کتاب نے کہاکہ ہم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا یہ وہ نہیں ہے لیکن تعبیر اس بات سے شروع کی جائے، اعتراف کریں کہ ہم سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہم نے اس ملک کو پھلتا پھولتا دیکھنا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے نفرت انگیزی معاشرے میں رچ بس چکی ہے کہ ہم ہر وقت نفرت کو قبول کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ، اور یہ نہیں سوچتے کہ ہماری منفی سوچ کے ہمارے نوجوانوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
انہو ںنے کہاکہ پیغام پاکستان کے ذریعے اس بات کو عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں اتحاد محبت و امن کو پرموٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔



















